عآپ لیڈر سوربھ بھاردواج اور جرنیل سنگھ سمیت کئی پارٹی کارکنان کے خلاف ایف آئی آر درج، ہیڈ کانسٹیبل سے مار پیٹ کا الزام
عام آدمی پارٹی کے دہلی کنویز سوربھ بھاردواج، تلک نگر کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ اور پارٹی کارکنان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ ان پر مار پیٹ کرنے اور سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام ہے۔

دہلی میں ایک ہیڈ کانسٹیبل سے مار پیٹ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ ایف آئی آر عام آدمی پارٹی کے دہلی کنویز سوربھ بھاردواج، تلک نگر کے رکن اسمبلی جرنیل سنگھ اور پارٹی کارکنان کے خلاف درج ہوئی ہے۔ ان پر مار پیٹ کرنے کا الزام ہے۔ ساتھ ہی سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ صاحب سنگھ کے خلاف بھی الگ سے معاملہ درج کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کیجریوال گزشتہ روز تلک نگر گئے تھے۔ دہلی پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل سادہ لباس میں وہاں ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔ عام آدمی پارٹی کے حامیوں کی بھیڑ نے اسے گھیڑ لیا۔ بھیڑ نے ہیڈ کانسٹیبل پر حملہ کر دیا۔ حملے کے بعد ہیڈ کانسٹیبل کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا۔
پولیس نے سرکاری ملازم کو اس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس پر حملہ کرنے سے متعلق دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے قبل دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج اور پارٹی کے کئی اراکین اسمبلی و کونسلروں کو حراست میں لے لیا تھا۔ یہ کارروائی وکاس پوری پولیس اسٹیشن کے باہر اس وقت کی گئی جب عآپ رہنما دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لر زوردار احتجاج کر رہے تھے۔
ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق یہ پورا تنازعہ حال ہی میں سڑک کی تعمیر میں مبینہ بدعنوانی کے انکشاف اور اس کے بعد ہوئے ہنگامے سے منسلک ہے۔ سوربھ بھاردواج کے مطابق عآپ رکن اسمبلی جرنیل سنگھ نے میڈیا کے کیمروں کے سامنے سڑک کا ایک حصہ اپنے ہاتھوں سے توڑ کر ناقص معیار اور رقم کے غبن کا پردہ فاش کیا تھا۔ بھاردواج کا الزام ہے کہ اس انکشاف سے ناراض وزیر پرویش ورما نے کیمرہ مین پر حملہ کیا، اس کا فون چھین لیا اور تھپڑ مارا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بدعنوانی کے ثبوتوں کو تباہ کرنے کی بھی کوشش کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
