ووٹروں کے حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی جاری رہے گی: ترنمول کانگریس
انڈیا بلاک نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے، ووٹ چوری اور ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ترنمول کانگریس نے ووٹروں کے حقوق اور جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا

نئی دہلی: راجدھانی دہلی میں پیر کو انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش مار کے استعفے، ووٹ چوری اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ تک مارچ نکال کر ووٹروں کے حقوق کے تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ ترنمول کانگریس نے واضح کیا کہ جمہوریت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کی یہ لڑائی جاری رہے گی اور پارٹی اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
آل انڈیا ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ جمہوریت کو بچانے اور ہندوستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ پارٹی کے مطابق، اس کے اراکین پارلیمنٹ نئی دہلی میں موجود ہیں اور ہر طرح کی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے انتخابی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات پر جواب دہی کا مطالبہ کیا۔
ترنمول کانگریس نے اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کی سربراہ اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں اپنے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ موجود تھیں۔ پارٹی نے کہا کہ انڈیا بلاک کے رہنماؤں کے ساتھ سپریم کورٹ تک مارچ کرکے ان تمام اہل ووٹروں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں انتخابی عمل کے دوران نقصان پہنچا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ووٹروں کے حقوق اور ہندوستانی جمہوریت کی سالمیت کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
مارچ کی قیادت لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کی۔ احتجاج میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما پرینکا گاندھی، این سی پی (شردچندر پوار) کی رہنما سپریا سولے اور ممتا بنرجی سمیت کئی اہم رہنما شریک ہوئے۔
اس موقع پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ چرن جیت سنگھ چنی نے کہا کہ پورا ملک بیدار ہوچکا ہے اور شہری اپنے حق رائے دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ووٹ منسوخ کیے جا رہے ہیں، اس سے لوگ شدید تکلیف محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ لڑائی ملک کی جمہوریت کو بچانے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محیب اللہ ندوی نے کہا کہ احتجاج کی آواز ہر گھر اور ہر دروازے تک پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے جمہوریت کی جن بنیادوں کو کمزور کیا گیا ہے، انہیں مضبوط کرنا ضروری ہے۔ ندوی نے سپریم کورٹ کے چند سابق ججوں کی جانب سے عدالتی آزادی سے متعلق ماضی میں اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اداروں کی خودمختاری اور جمہوری نظام کے تحفظ سے متعلق تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
