بلاس پور جیل میں ایک ماہ کے اندر پانچویں قیدی کی موت، عمر قید کی سزا کاٹ رہا شخص جلتی بھٹی میں کودا

جیل کے اندر قیدیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں، ممنوعہ نشہ آور اشیا کی اسمگلنگ، موبائل فون کی برآمدگی اور اب مسلسل ہونے والی اموات نے جیل انتظامیہ کی سنگین لاپروائی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

جیل، علامتی تصویر آئی اے این ایس
i

چھتیس گڑھ واقع بلاس پور سنٹرل جیل کی سیکورٹی انتظامات پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز جیل احاطے میں نصب گیسفائر پلانٹ کی دہکتی بھٹی میں چھلانگ لگا کر 46 سالہ قیدی راہل عرف ویکیش کنور نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ متوفی قیدی بمہنی ڈیہہ (چامپا) کا رہنے والا تھا اور دوہرے قتل کے الزام میں گزشتہ 10 برس سے جیل میں بند تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاس پور جیل کے کچن میں لکڑی سے گیس تیار کرنے والا گیسفائر پلانٹ نصب ہے، جس سے قیدیوں کے لیے کھانا پکایا جاتا ہے۔ بدھ کے روز جب پلانٹ چل رہا تھا، اسی دوران راہل اچانک وہاں پہنچا اور دہکتی بھٹی میں کود گیا۔ وہاں موجود سیکورٹی اہلکار اور دیگر قیدی جب تک کچھ سمجھ پاتے اور اسے باہر نکالنے کی کوشش کرتے، تب تک وہ مکمل طور پر جھلس چکا تھا اور موقع پر ہی اس کی موت ہو گئی۔ بلاس پور سنٹرل جیل میں مسلسل ہونے والی اموات نے انتظامی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ گزشتہ 30 دنوں کے دوران اسی جیل میں 5 قیدی اپنی جان گنوا چکے ہیں۔


موصولہ اطلاع کے مطابق 23 جون کو پوکسو ایکٹ کے ملزم نیلو جگت کا جیل کے اندر ہی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عمر قید کی سزا کاٹ رہے رائے گڑھ کے رہائشی رام بھروسے مانجھی، گتورا کے رہائشی راجو گونڈ اور دھرمیندر سنگھ نامی قیدیوں کی بھی مشتبہ حالات اور بیماری کے باعث موت ہوئی تھی۔

بہرحال، تازہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے۔ بلاس پور کے ضلع مجسٹریٹ (کلکٹر) سنجے اگروال اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) رجنیش سنگھ نے پولیس فورس کے ساتھ جیل احاطے کا معائنہ کیا۔ فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ کلکٹر نے تصدیق کی ہے کہ متوفی قیدی گزشتہ 10 برس سے سزا کاٹ رہا تھا اور معاملے کی تفصیلی مجسٹریٹ جانچ کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔


بلاس پور سینٹرل جیل اس سے قبل بھی کئی تنازعات کے باعث سرخیوں میں رہ چکی ہے۔ جیل کے اندر قیدیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں، ممنوعہ نشہ آور اشیا کی اسمگلنگ، موبائل فون کی برآمدگی اور اب مسلسل ہونے والی اموات نے جیل انتظامیہ کی سنگین لاپروائی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔