راجستھان میں پُراسرار بیماری سے خوف کا ماحول، اب تک 5 بچوں کی موت، 7 اضلاع میں نظر آ رہا اثر
افسران نے بتایا کہ 2 سے 4 سال کی عمر کے بچوں میں بخار اور الٹی جیسی علامتیں دکھائی دیں اور 24 گھنٹے کے اندر ہی ان کی موت ہو گئی۔ یہ معاملہ لساڑیا واقع لال پورہ اور گھاٹا گاؤں میں سامنے آیا ہے۔

راجستھان کے سلومبر ضلع میں پُراسرار بیماری کے سبب 5 دنوں میں 5 بچوں کی موت ہو گئی ہے۔ ہلاک بچوں میں 2 بھائی بہن بھی شامل ہیں۔ ان اموات سے علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ افسران نے بدھ کے روز ان اموات سے متعلق جانکاری دی اور بتایا کہ 2 سے 4 سال کی عمر کے بچوں میں مبینہ طور پر بخار اور الٹی جیسی علامتیں دکھائی دیں اور 24 گھنٹے کے اندر ہی ان کی موت ہو گئی۔
افسران کا کہنا ہے کہ معاملہ لساڑیا واقع لال پورہ اور گھاٹا گاؤں میں سامنے آیا ہے۔ انتظامیہ نے محکمہ صحت کی ٹیموں کو نمونے لینے اور حالات پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کر دیا ہے۔ افسران کے مطابق مہلوکین کی شناخت لال پورہ گاؤں کے 4 سالہ دیپک، اس کے بھائی 3 سالہ لکشمن اور 4 سالہ سیما کی شکل میں ہوئی ہے۔ اسی طرح گھاٹا گاؤں کے 4 سالہ راہل اور 2 سالہ کاجل کی بھی موت ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 8 دیگر بچوں کا فی الحال سلومبر اور اودے پور کے اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔
ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ دنیش رائے ساپیلا نے بتایا کہ متاثرہ گاؤں میں رہنے والے لوگوں کا سروے کیا گیا ہے۔ ان گاؤں میں 560 سے زائد گھر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میڈیکل ٹیموں نے سروے کیا ہے اور جس بھی شخص میں علامتیں دیکھی جائیں گی، انھیں فوراً علاج مہیا کرایا جائے گا۔ مقامی لوگوں سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ اگر بچوں میں بیماری کی کوئی بھی علامت نظر آئے تو فوراً قریبی ہیلتھ سنٹر پر جائیں۔
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ افسر مہندر پرمار نے بتایا کہ نمونوں کو جانچ کے لیے آر این ٹی میڈیکل کالج بھیجا گیا ہے۔ بیماری کے بارے میں صحیح پتہ رپورٹ آنے کے بعد ہی چل پائے گا۔ احتیاطی قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ مویشی پروری کی ٹیموں نے گھاٹا گاؤں میں مویشیوں کے باڑوں میں جراثیم کش کا چھڑکاؤ کیا ہے۔ مقامی رکن اسمبلی تھاورچند ڈامور نے متاثرہ علاقہ کا دورہ کیا اور افسران کے ساتھ حالات کا جائزہ لیا۔ انھوں نے مقامی باشندوں سے اپیل کی کہ مرض کی علامت نظر آنے پر وہ فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور کسی وہم میں نہ پڑیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔