حکومت ضد چھوڑےاور کسانوں سے بات کرے،کسان پھر مظاہرہ گاہ کی جانب گامزن

اپوزیشن کی 12 پارٹیوں نے مشترکہ بیان میں کسانوں کے احتجاج کے چھ ماہ مکمل ہونے پر سنیوکت کسان مورچہ کی ملک گیر تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس سمیت بارہ اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں نے بدھ کو منعقدہ سنیوکت کسان مورچہ کے ملک گیر احتجاج کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے ضد چھوڑ کر کسانوں سے بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے۔

اپوزیشن کی 12 پارٹیوں نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں کسانوں کے احتجاج کے چھ ماہ مکمل ہونے پر سنیوکت کسان مورچہ کی ملک گیر تحریک کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان جماعتوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ضد چھوڑ دیں اور کسانوں کے مطالبوں پر غور کرتے ہوئے ان سے بات چیت کرنی چاہئے۔


واضح رہےکسانوں نے26 مئی کو ملک گیر پیمانہ پر یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے جس کےتحت کسانوں کی تنظیم نےتمام ملک کے شہریوں سےاپنے گھراور گاڑیوں پر کالے جھنڈے لگانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نےیہ بھی اپیل کی ہے کہ مودی حکومت کا پتلا جلایا جائے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی کھیتی باڑی کی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے ہیں اس لئے اب وہ دوبارہ مظاہرہ گاہ پہنچنے کی تیاری کر رہےہیں ۔

بیان میں اپوزیشن پارٹیوں نے کہا ہے کہ 12 مئی کو انہوں نے مشترکہ طور پر وزیر اعظم کو خط لکھا تھا جس میں ان سے زرعی قوانین کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ کاشتکار اس وبا کے دوران کھیتی باڑی کرسکیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کی بنیاد پر کاشتکاروں کو کم سے کم سپورٹ قیمت دینے کے قانونی حق کا مطالبہ کیا تھا اور مرکز پر زور دیا تھا کہ وہ اس بنیاد پر دوبارہ کسانوں سے بات کرے۔


اس بیان پر دستخط کرنے والے میں اپوزیشن لیڈروں میں کانگریس صدر سونیا گاندھی ، جنتا دل (ایس) کے ایچ ڈی دیو گوڑا ، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار ، ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی ، شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے ، ڈی ایم کے کے ایم کے اسٹالن، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ہیمنت سورین ، جے کے پی اے کے فاروق عبد اللہ ، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو ، راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ڈی راجہ اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتارام یچوری شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔