بہار میں ’کسان تحریک‘ کا اعلان، راکیش ٹکیت نے حق کے لیے لڑنے کا عزم کیا ظاہر

کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا مطالبہ ہے کہ سرکاری کاموں کے لیے لی جانے والی کسانوں کی زمین کا مناسب معاوضہ دیا جائے اور بہار سٹی ڈیولپمنٹ ایکٹ واپس لیا جائے۔

<div class="paragraphs"><p>راکیش ٹکیت / آئی اے این ایس</p></div>
i

بہار میں کسانوں کی زمین کا مسئلہ اب تحریک کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ’بھارتیہ کسان یونین‘ (بی کے یو) کے لیڈر راکیش ٹکیت نے ریاست میں کسان تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سرکاری کاموں کے لیے لی جانے والی کسانوں کی زمین کا مناسب معاوضہ دیا جائے اور بہار سٹی ڈیولپمنٹ ایکٹ واپس لیا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ بہار میں مجوزہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے لیے زرعی زمین لیے جانے کی کسان مخالفت کر رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ٹکیت نے کہا کہ کسانوں کو اپنے حقوق کے لیے لڑنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہار میں کسان تحریک ابھی کمزور ہے۔ ریاست سے باہر کام کرنے والے لوگ جہاں رہ رہے ہیں، وہاں سے بھی اس تحریک کی حمایت کریں۔ راکیش ٹکیت نے زرعی منڈیوں اور مارکیٹ کمیٹیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ان کا الزام ہے کہ ان کے بند ہونے سے کسان پہلے ہی کمزور ہو چکے ہیں۔ اب کسانوں کی زمین لیے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے۔ ٹکیت کے مطابق بہار کے کسان اس مسئلے کو سمجھ چکے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے تحریک کا راستہ اختیار کریں گے۔


’بھارتیہ کسان یونین‘ نے بہار سٹی ڈیولپمنٹ ایکٹ واپس لینے کا مطالبہ بھی زور و شور سے کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے لیے زرعی زمین لینے کے بجائے گاؤں کی ترقی پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ کسانوں کی زمین سے متعلق فیصلہ ان کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ یونین نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ تمام فصلوں کے لیے ایم ایس پی طے کرنے میں C2+50 فیصد فارمولہ نافذ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کھیتی کی مکمل لاگت کے اوپر 50 فیصد اضافی رقم شامل کر کے فصل کی ایم ایس پی طے کی جائے۔ 60 سال سے زیادہ عمر کے کسانوں اور مزدوروں کو ہر ماہ 10 ہزار روپے پنشن دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اس درمیان راکیش ٹکیت نے لوگوں سے مذہب کے نام پر تقسیم ہونے سے بچنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی حکومت آئین کے مطابق چلنی چاہیے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بڑے کاروباری گروپوں کا حکومت کے کام کاج پر اثر بڑھ رہا ہے۔ واضح رہے کہ بہار میں سیٹلائٹ ٹاؤن شپ کے لیے زرعی زمین لیے جانے کی کسان پہلے سے مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اب ’بھارتیہ کسان یونین‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔