آندھرا اسمبلی انتخابات: وائی ایس آر کانگریس کی غیر معمولی کامیابی

وائی ایس جگن موہن ریڈی ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کے دوسرے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔ 102 نشستوں پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کامیاب ہوئی ہے جب کہ تلگو دیشم پارٹی 17 نشستوں پر سمٹ گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: وائی ایس جگن موہن ریڈی کی قیادت میں وائی ایس آر کانگریس آندھراپردیش کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں غیر معمولی جیت درج کرتے ہوئے آندھر پردیش میں آئندہ حکومت تشکیل دینے کا امکان ہے۔

متحدہ آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے فرزند وائی ایس جگن موہن ریڈی ریاست کی تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کے دوسرے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔ 102 نشستوں پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کامیاب ہوئی ہے جب کہ تلگو دیشم پارٹی 17نشستوں پر سمٹ گئی ہے۔

ساتھ ہی وائی ایس آر کانگریس پارٹی لوک سبھا کی 25 نشستوں میں سے 15 پر کامیاب ہوئی ہے۔ اسی دوران وائی ایس آر کانگریس مقننہ کی ایک اہم میٹنگ اس ماہ کی 25 تاریخ کو امراوتی میں منعقد ہوگی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں وائی ایس جگن موہن ریڈی کو پارٹی کا رسمی طور پر لیڈر منتخب کیا جائے گا۔ اب جبکہ وائی ایس کانگریس پارٹی کا آندھرا پردیش میں حکومت بنانا طے ہے پارٹی وائی ایس جگن موہن ریڈی کو رسمی طورپر پارٹی کا لیڈر بنانے جا رہی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق جگن موہن ریڈی مندروں کے شہر تروپتی میں اس ماہ کی 30 تاریخ کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔

آندھرا پردیش میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی غیر معمولی جیت پر وائی ایس آر پارٹی کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے اسے عوام کی فتح قرار دیا ہے۔ اپنے فیس بک بیان میں جگن موہن ریڈی نے عوام کا انہیں ووٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ بعدا زاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امراوتی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جگن موہن ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بی جے پی کی جیت پر مبارکباد پیش کی۔

تلگودیشم کی مایوس کن کارکردگی

تلگو دیشم پارٹی کا آندھرا پردیش میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں مظاہرہ انتہائی ناقص، مایوس کن اور تعجب خیز نظر آرہا ہے۔ تلگو دیشم پارٹی جس نے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں 102 نشستیں اور لوک سبھا کی 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، 2019 کے انتخابات میں ناکام نظر آرہی ہے۔

چندرابابو نائیڈو کابینہ کے 18 وزرا اور خود وزیراعلیٰ کے فرزند نارا لوکیش انتخابات میں شکست کھاتے نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے مضبوط قلعہ مانے جانے والی نشستیں بھی وائی ایس آر کانگریس کی طوفانی لہر کی زد میں آگئیں۔ پارٹی اس بار وجیہ نگرم ضلع کی 6 نشستوں پر کھاتا بھی نہیں کھول پائے گی۔ جبکہ گزشتہ بار اسے چھ کی چھ نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ چندرابابو نائیڈو کے آبائی ضلع چتور میں بھی پارٹی کا مظاہرہ مایوس کن رہا۔

تلگو دیشم پارٹی کو قیام کے بعد سے پہلی مرتبہ اس طرح کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ آخری اطلاع ملنے تک تلگو دیشم سربراہ چندرابابو نائیڈو کپم اسمبلی حلقے سے اپنے حریف وائی ایس آر سی پی امیدوار کرشنا چندرا مولی پر سبقت بنائے ہوئے ہیں۔