ساٹھ دن بعد بھی کشمیر میں حالات بہت زیادہ خراب: سندیپ پانڈے

میگسیسے انعام یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے کہاہے کہ آئین کی دفعہ 370کو ختم کیے جانے کے 60دن گزرگئے ہیں پھربھی وہاں حالات انتہائی خراب ہیں

تصویر سوشل میڈیا
i
user

یو این آئی

نئی دہلی: میگسیسے انعام یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے کہاہے کہ آئین کی دفعہ 370کو ختم کیے جانے کے 60دن گزرگئے ہیں پھربھی وہاں حالات انتہائی خراب ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بڑی تعداد میں لوگ جیل میں بند اور نظربندہیں ۔انکی قیادت میں ایک وفد کو کل کشمیر ایئرپورٹ پر روک لیاگیااور اسے باہر نہیں جانے دیاگیا بلکہ جبرا اسے دہلی واپس بھیج دیاگیا۔

پانڈے نے سنیچر کو صحافیوں کوبتایا کہ راشٹریہ جن آندولن سمنوے کے وفد کے ساتھ جب وہ کل صبح سری نگر ایئرپورٹ پر اترے تو پتہ چلا کہ بڈگام ضلع کے ضلع مجسٹریٹ نے انکے خلاف حکم جاری کیاتھا کہ انھیں کشمیر نہ جانے دیاجائے کیونکہ انکے بارے میں انھیں خبر ملی ہے کہ وہ لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے عوامی ریلی کرسکتے ہیں ۔


انھوں نے کہاکہ ہمارے وفد میں خدائی خدمت گار کے فیصل خان ،محمد جاوید ملک ،مصطفی محمد اور لوک شکتی کے پرفل سمانتاراشامل تھے ۔وہ لوگ وہاں خدائی خدمت گار کے ساتھیوں سے ملنے گئے تھے ،انکا مقصد کوئی عوامی ریلی یا میٹنگ کرنا نہیں تھا،اس لیے جب انھیں ایئرپورٹ پر اچانک روک لیاگیا تو حیرت بھی ہوئی ۔

انھوں نے کہاکہ وہاں پولیس نے انکی بیوی کےبارے میں پوچھ تاچھ کی جبکہ وہ ہمارے ساتھ وہاں گئی بھی نہیں تھیں اور نہ انکا وہاں جانے کا کوئی پروگرام تھا۔انھوں نے کہاکہ انھیں ایئرپورٹ کے لانج سے باہر نہیں جانے دیاگیا،ایئرپورٹ کے ویٹنگ ہال میں گھومنے بھی نہیں دیاگیا۔سوشلسٹ پارٹی سے منسلک پانڈے نے کہاکہ حکومت تو دعوی کرتی ہے کہ حالات معمول پر ہیں تو پھر انکے جیسے امن پسند کارکنوں کو کیوں روکا گیا۔انھوں نے سوال کیا کہ جب سعیدہ حمید ،شبنم ہاشمی اور جیاں دیریز کشمیر جاسکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں ۔


پانڈے نے کہاکہ حکومت کشمیر میں ترقی کے لیے دفعہ 370 ہٹانے کی بات کرتی ہے جبکہ اسے ہٹانے سے ریلوے کو دوکروڑ کا نقصان ہوچکاہے ۔سیب اور اخروٹ ہورہے ہیں جس سے معیشت اور سیاحت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ اسکول خالی ہیں، ہرجگہ دفعہ 144نافذ ہے اور اسکے احتجاج میں دھرنہ اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انکے ساتھ جارہے مسافروں سے وہاں کے حالات کے بارے میں پتہ چلا کہ لوگوں میں کافی غصہ اور بے چینی ہے۔ بڑی تعدادمیں لوگ جیلوں میں بندیانظربندہیں ۔ انھوں نے وہاں بلاک پنچایت انتخابات کراکے ریاست میں جمہوریت بحال کرنے اور لوگوں کو رہاکرنے اور صورتحال معمول پر لانے کی اپیل کی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    Published: 05 Oct 2019, 9:55 PM