یورپ میں ریکارڈ گرمی سے 3700 اضافی اموات، فرانس سب سے زیادہ متاثر
یورپ میں جون کی شدید گرمی کے دوران فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں مجموعی طور پر 3700 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ سب سے زیادہ 2025 اموات فرانس میں ہوئیں، تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے

یورپ میں جون کے آخری ہفتے کے دوران آنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث فرانس، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 3700 اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کے مطابق یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور مکمل جائزے کے بعد اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ گرمی کی لہر براعظم کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں شمار کی جا رہی ہے، جس نے صحت کے نظام، بجلی کی فراہمی اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا۔
سب سے زیادہ متاثر فرانس رہا، جہاں جون کی شدید گرمی کے دوران 2025 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ فرانس کی وزیر صحت اسٹیفنی رسٹ کے مطابق پینتالیس برس سے زائد عمر کے افراد میں اموات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ فرانسیسی صحت عامہ کے ادارے نے بتایا کہ 22 جون سے 28 جون کے درمیان گھروں میں ہونے والی اموات گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 91 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ نرسنگ ہومز اور دیگر طبی مراکز میں بھی اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ صرف ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور حتمی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
بیلجیم کی وزارت صحت کے مطابق اٹھارہ 18 جون سے 29 جون کے درمیان تقریباً 1200 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ان میں 530 افراد کی عمر پچاسی برس یا اس سے زیادہ تھی، جبکہ 180 اموات 65 برس سے کم عمر افراد کی تھیں۔ وزارت صحت نے کہا کہ گرمی کی لہر کے دوران اس نوعیت کی اضافی اموات ملک میں غیر معمولی ہیں۔
نیدرلینڈز کے حکام کے مطابق شدید گرمی کے باعث تقریباً 480 اضافی اموات ہوئیں، جن میں زیادہ تر 80 برس سے زائد عمر کے افراد شامل تھے۔
فرانس میں 24 جون کو ملکی تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دارالحکومت پیرس میں درجہ حرارت تقریباً 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ ملک کے تقریباً نصف حصے میں شدید گرمی کے باعث سرخ انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں یورپ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ گرمی کی لہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آ سکتی ہیں، جس کے پیش نظر یورپی ممالک کو صحت عامہ، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی انتظامات کے شعبوں میں مزید مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
