نینی تال میں روزگار پر منڈلاتے خطرات: گیس کی قلت سے ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند، کاروباری طبقہ پریشان

سیاحتی سیزن سے عین قبل پیدا ہونے والے سلنڈر بحران نے اتراکھنڈ میں ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کے ساتھ ساتھ ان سینکڑوں خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے جن کی روزی روٹی ان دکانوں پر منحصر ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایل پی جی سلنڈر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کرممشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ کے سبب توانائی کی عالمی منڈی میں مچے کہرام کے درمیان ہندوستان میں ایل پی جی کے حوالے سے افراتفری کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر لوگ سلنڈر کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑے رہنے کے بعد بھی خالی ہاتھ لوٹ رہے ہیں۔ اس دوران دنیا کا مشہور سیاحتی شہر نینی تال بھی اسی طرح کے بحران سے دوچار ہے۔ حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ گیس وافر مقدار میں موجود ہے۔

شہر میں گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈروں کی سپلائی میں خلل کی وجہ سے شہر کی رفتار سست پڑ نے لگی ہے۔ خاص طور پر ملی تال علاقے میں گیس کی قلت کی وجہ سے کئی ریسٹورنٹ، ڈھابے اور کھانے پینے کی چھوٹی موٹی دکانیں بند ہونے لگی ہیں۔ سیاحتی سیزن سے عین قبل پیدا ہونے والے اس بحران نے ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان کے ساتھ ساتھ ان سینکڑوں خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے جن کی روزی روٹی ان دکانوں پر منحصر ہے۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد کوئی حل نہیں ہوا تو صورتحال خوفناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔


اتراکھنڈ کے سب سے خوبصورت سیاحتی مقامات میں شامل نینی تال میں سڑک کنارے چل رہے کئی ڈھابے اور ریسٹورنٹ گیس کی قلت کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں جب کہ کئی دیگر بند ہونے کی دہلیز پر ہیں۔ ہوٹل، ڈھابہ اور ریسٹورنٹ کے مالکان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے کاروبار کو چلانے اور ملازمین کی روزی روٹی کو محفوظ رکھنے کے لیے گیس کی سپلائی بحال کی جائے۔

ہوٹل ایسوسی ایشن سے وابستہ عہدیدار مسلسل حکومتی اہلکاروں سے گیس کی سپلائی بحال کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ وہیں انتظامی افسران بھی اس معاملے میں اعلیٰ حکام کی ہدایات ملنے کا انتظار کررہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر جلد کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا گیا تو نینی تال کا سیاحتی کاروبار بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔


غورطلب ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر یکطرفہ حملے اور پھر جوابی کارروائی کے تحت ایران کی طرف سے حملوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں بڑی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں سے آنے والی گیس سپلائی بڑی طرح متاثر ہونے سے یہاں حکومت نے ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں کمرشیل گیس کی سپلائی پوری طرح بند کردی ہے۔ اسی وجہ سے نینی تال کے ساتھ ساتھ رام نگر،مکتیشور اور ہلدوانی میں بھی ہوٹل اور  ریسٹورنٹ بند ہونے کی دہلیز پر ہیں ہیں یا بند ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال میں روزگار کا بھی بحران پیدا ہوگیا ہے اور مقامی کاروباری حل کی امید میں انتظامیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔