دہلی میں الیکشن کمیشن کی گول میز کانفرنس، سی ای سی نے ملک کے مفاد اور آئینی اصولوں کا دیا درس

کانفرنس کا مقصد عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے تناظرمیں ووٹر لسٹ کی تیاری اورنظرثانی قوانین پرعمل کو سمجھنا ہے۔ اس دوران ووٹر لسٹ کی درستگی اور مضبوطی بڑھانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر :الیکشن کمیشن ’ایکس‘ ہینڈل</p><p><a href="https://x.com/ECISVEEP">@ECISVEEP</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 ملک بھر کے الیکشن کمیشن اور ریاستی الیکشن کمشنروں کی قومی گول میز کانفرنس منگل کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں شروع ہوگئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس قسم کی کانفرنس 27 سال بعد منعقد کی گئی ہے۔ اس سے قبل ایسی کانفرنس 1999 میں ہوئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر(سی آئی سی) گیانیش کمار کانفرنس کی صدارت کررہے ہیں۔ اس موقع پرالیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی بھی موجود تھے۔ ملک کے تمام صوبوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ریاستی الیکشن کمشنر اپنے قانونی اور تکنیکی ماہرین کے ساتھ کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانفرنس میں 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران بھی شامل ہوئے۔

کانفرنس کے آغاز میں چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنروں نے شرکا سے خطاب کرکے گفتگو کی سمت طے کی۔ اس دوران کمیشن نے ’جمہوریت کا سنگم‘ عنوان سے کتابچہ کا بھی اجرا کیا۔ گیانیش کمار نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے مفاد اور آئینی اصولوں کے مطابق الیکشن کمیشن اور ریاستی الیکشن کمیشن کو ووٹر کو ذہن میں رکھتے ہوئے مل کر کام کرنا چاہیے۔


دن بھر جاری رہنے والی اس کانفرنس میں الیکشن مینجمنٹ سے متعلق مختلف اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمز) کے استعمال، ان کی شفافیت اور حفاظتی خصوصیات کے بارے میں تفصیلی تجاویز پیش کی گئیں۔ ساتھ ہی نئے ڈیجیٹل سسٹم ’ای سی آئی نیٹ‘ پر بھی خصوصی تجویز پیش کی گئی۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد انتخابی عمل کو تکنیکی طور سے مزید موثر بنانا ہے۔

کانفرنس میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں رائے دہندگان کی اہلیت سے متعلق دفعات کی تقابلی پیشکش بھی دی گئی۔ بحث کا مقصد عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کے تناظر میں انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی کے قانونی عمل کو بہتر طور پر سمجھنا تھا۔ انتخابی فہرستوں کی درستگی اور مضبوطی بڑھانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔


الیکشن کمیشن کے مطابق اس اجلاس کا مقصد قومی اور ریاستی انتخابی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کو مزید تقویت دینا تھا۔ واضح رہے کہ ریاستی الیکشن کمیشنوں کی تشکیل آئین کی 73ویں اور 74 ویں ترمیم کے تحت کی گئی تھی۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 243 کے اور 243 زیڈ اے کے مطابق یہ کمیشن پنچایتوں اور میونسپل اداروں کے انتخابات کرانے کے ذمہ دار ہیں۔