الیکشن کمیشن تنازعہ: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درخواست پر سماعت کے لیے سپریم کورٹ راضی
درخواست میں الیکشن کمیشن کے کثیر رکنی ڈھانچے، فیصلے لینے کے طریقۂ کار اور چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات سے متعلق کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن سے متعلق تنازعہ کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ اگلے ہفتے سماعت کرے گی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نام پر لیے گئے بعض فیصلوں میں دوسرے الیکشن کمشنروں کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ خاص طور پر ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست گزار راکیش کمار سنگھ نے آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت یہ درخواست دائر کی ہے۔
درخواست میں الیکشن کمیشن کے کثیر رکنی ڈھانچے، فیصلے لینے کے طریقۂ کار اور چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات سے متعلق کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔ منگل کے روز سینئر وکیل وکاس سنگھ نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کی جلد سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کی درخواست کی۔ عدالت نے درخواست کو اگلے ہفتے سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ درخواست میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے سمیت کئی مطالبات کیے گئے ہیں۔
درخواست میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کے قانون 2023 کی دفعہ 18 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ذمہ داریوں کی تقسیم جہاں تک ممکن ہو، باہمی اتفاق رائے سے ہونی چاہیے اور اختلاف کی صورت میں اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر 2025 سے اگست 2026 کے درمیان الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کم از کم 14 معاملات میں اعتراضات درج کیے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان معاملات میں ایسے اقدامات کیے گئے، جنہیں دونوں الیکشن کمشنروں نے کمیشن کی منظوری کے بغیر اٹھائے گئے اقدامات قرار دیا۔ ان الزامات میں سب سے اہم معاملہ ایس آئی آر کا ہے۔ درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ایس آئی آر سے متعلق فیصلہ واقعی پورے انتخابی کمیشن کا فیصلہ تھا، یا یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر کی سطح پر لیا گیا تھا۔
درخواست میں الیکشن کمشنروں کے مبینہ اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر کمیشن کے اندر اختلاف رائے تھا تو قانون کے مطابق اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جانا چاہیے تھا۔ درخواست میں فارم-6 کو لے کر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ دعویٰ کیا گیا کہ جولائی 2026 میں فارم-6 میں ایسی تبدیلی کی گئی، جس میں درخواست گزار سے یہ معلومات طلب کی گئیں کہ کیا وہ، اس کے والدین یا دادا دادی گزشتہ ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ میں درج تھے یا نہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی پر الیکشن کمشنر وویک جوشی نے اعتراض درج کیا تھا اور بعد میں سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی اس اعتراض کی حمایت کی۔
درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ کے اعداد و شمار کے انتظام اور ان تک رسائی کے معاملے پر کمیشن کے اندر اختلاف رائے تھا۔ درخواست میں مغربی بنگال ایس آئی آر سے متعلق اپیل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ درخواست میں تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار اپیلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اپیلیں الیکشن کمیشن کے نام پر ان ووٹروں کے سلسلے میں دائر کی گئی تھیں، جن کے نام عدالتی افسران کے حکم کے بعد ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے تھے۔ درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان اپیلوں کو دائر کرنے کی اجازت کس نے دی تھی۔
اسی معاملے میں درخواست گزار نے انتخابی کمیشن سے متعلق اصل دستاویزات، فائلوں پر درج نوٹس، منظوری سے متعلق کاغذات اور دیگر ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انتخابی کمیشن کے الیکٹرانک اور کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنے کی بھی درخواست کی گئی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازعہ فیصلے کس سطح پر اور کس طریقۂ کار کے تحت لیے گئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
