برصغیر ہند میں عیدالفطر کل، مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کی سڑکوں پر نماز نہ پڑھنے کی تلقین
علمائے کرام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کو سادگی، بھائی چارے اور نظم و ضبط کے ساتھ منائیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔

برصغیر ہند میں کل یعنی 21 مارچ کو عید کی نماز پڑھی جائے گی۔ 29 رمضان کو چاند کا دیدار نہیں ہو سکا تھا، اس لیے 30 کی رویت قبول کرتے ہوئے مختلف ہلال کمیٹیوں اور مسلم تنظیموں نے 21 مارچ کو عید منائے جانے کا اعلان کر دیا تھا۔ پھر بھی آج کئی علاقوں میں عید کا چاند دیکھنے کے لیے لوگ مساجد اور اپنے گھر کی چھتوں پر نظر آئے۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بھی جمعہ کے روز عید کا چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا اور کئی لوگوں کو چاند نظر بھی آیا۔ بعد ازاں ہفتہ کو عیدالفطر منانے کا باقاعدہ اعلان مساجد سے کیا گیا۔ عید کی تیاریوں نے پہلے ہی زور پکڑ لیا تھا اور آج مغرب کے بعد سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خاص طور سے عیدگاہ عیش باغ سمیت تمام بڑی مساجد میں انتظامات تیز کر دیے گئے ہیں۔
اس درمیان اسلامک سنٹر آف انڈیا کے صدر مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا ایک بیان سامنے آیا ہے، اس میں انھوں نے کہا ہے کہ 29 رمضان کو چاند نظر نہیں آیا تھا، اس لیے شرعی حساب سے جمعہ کو اس کی رویت کی گئی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عید کی نماز مقررہ عیدگاہوں اور مساجد میں ہی ادا کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور سڑکوں پر نماز ادا کرنے سے گریز کریں۔
بہرحال، برصغیر ہند میں عیدالفطر کی مبارکبادیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ہندوستان کے کئی حصوں، بشمول دہلی اور ریاست بہار میں خراب موسم اور آسمان صاف نہ ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہیں آ سکا۔ تاہم چونکہ 29 رمضان کو چاند نظر نہیں آیا تھا، اس لیے قمری حساب کے مطابق 30 دن مکمل ہونے پر عید کا فیصلہ پہلے ہی متوقع تھا۔ دہلی، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، پنجاب، راجستھان سمیت پورے ہندوستان میں عید کی نماز کے پیش نظر سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہین۔ شہر کی مساجد اور عیدگاہوں میں صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کا انتظام بھی مکمل کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی امن و امان برقرار رکھنے اور نمازیوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ علمائے کرام نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ عید کو سادگی، بھائی چارے اور نظم و ضبط کے ساتھ منائیں اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔