اترپردیش میں عیدالاضحی پرامن طریقے سے منائی گئی

مین پوری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کملیش دکشت بھی لوگوں کے درمیان گئے اور سب کو عید کی مبارکباد دی اور پرامن طریقے سے اس تہوار کو منانے کے لیے سب کا شکریہ ادا کیا۔

عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرتے فرزندان توحید، تصویر یو این آئی
عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرتے فرزندان توحید، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: عیدالاضحی (بقرعید) بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دینے والا تہوار اترپردیش میں پرامن طریقے سے اور جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اتوار کو ریاست کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تقریباً تمام اضلاع میں مسلم سماج کے لوگوں نے مقامی مساجد میں نماز ادا کرکے ایک دوسرے سے گلے مل کر آپسی بھائی چارے کے ساتھ عیدالاضحی کا تہوار منایا۔ واضح رہے کہ عید الاضحی کی نماز اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینے 10 ذی الحجہ کو ادا کی جاتی ہے۔

جونپور سے موصولہ اطلاع کے مطابق ضلع میں عیدالاضحٰی پورے جوش و خروش اور بھائی چارے کے ساتھ منائی گئی۔ کووڈ کے دو سال بعد لوگوں نے عید الاضحی کی نماز جونپور کی شاہی عیدگاہ میں ادا کی۔ مین پوری سے موصولہ رپورٹ کے مطابق شہر میں واقع عیدگاہ میں صبح نماز ادا کی گئی۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے ایک دوسرے کو عیدالاضحی کی مبارکباد دیتے ہوئے یہ تہوار جوش و خروش سے منایا۔


مین پوری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کملیش دکشت بھی لوگوں کے درمیان گئے اور سب کو عید کی مبارکباد دی اور پرامن طریقے سے اس تہوار کو منانے کے لیے سب کا شکریہ ادا کیا۔ لوگ ایک دوسرے کے گھر بھی گئے اور عید کی مبارکباد دی۔ کملیش دکشت نے کہا کہ ضلع کے مختلف مقامات پر تقریباً 26 عیدگاہوں اور 88 مساجد میں نماز ادا کی گئی۔ ضلع میں یہ تہوار پرامن طریقے سے منایا گیا۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حلقہ گورکھپور سے موصولہ اطلاع کے مطابق قربانی کا تہوار عید الاضحی پورے ڈویژن میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ ڈویژن کے تمام اضلاع میں لوگ صبح کے وقت نماز کے لیے مساجد میں جمع ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی عیدگاہ سمیت تمام مساجد میں عید الاضحی کی نماز ادا کی گئی۔ اس کے بعد لوگوں نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے قربانی کی رسم ادا کی اور ایک دوسرے سے گلے مل کر بقرعید کی مبارکباد دی۔


اسی سلسلے میں گورکھپور کے نارمل میں واقع تاریخی عیدگاہ جہاں معروف افسانہ نگار منشی پریم چند نے ہندی کی مشہور کہانی ’’عیدگاہ‘‘ لکھی تھی، ہزاروں لوگوں نے نماز پڑھ کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر گورکھپور شہر کے بینی گنج میں واقع عیدگاہ کے مولانا جنید عالم نقوی نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کے بغیر مذہب، قوم، معاشرہ اور ملک مضبوط نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ بھی دعا کریں کہ ہندوستان میں 100 سال پہلے کا بھائی چارہ اور پیار دوبارہ لوٹ آئے اور ہندوستان کے وقار کو کبھی ٹھیس نہ پہنچے۔

اس دوران خطہ کے گورکھپور، دیوریا، مہاراج گنج، کشی نگر، بستی، سدھارتھ نگر اور سنت کبیر نگر اضلاع میں تہوار پرامن طریقے سے منایا گیا۔ اس دوران عیدگاہوں کی صفائی کے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ حکومت کی ہدایات کے مطابق عوام نے عوامی مقامات پر قربانی نہیں کی۔ نماز کے پیش نظر کئی راستوں پر ٹریفک میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔ پولیس سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس اور انتظامیہ چوکس رہی اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔


پرتاپ گڑھ ضلع میں عید الاضحیٰ کا تہوار شہری اور دیہی علاقوں میں واقع مساجد میں پرامن طریقے سے منایا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پورے ضلع میں نمازعیدالاضحی پرامن ماحول میں ادا کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے تمام عیدگاہوں اور مساجد پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کرنے کے ساتھ 22 زونل اور 45 سیکٹر مجسٹریٹس کو تعینات کیا تھا۔ تمام تحصیل ہیڈ کوارٹرز کی نگرانی کے لیے کنٹرول روم قائم کیے گئے۔ اس موقع پر ضلع مجسٹریٹ نتن بنسل نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور سب کو عیدالاضحٰی کی مبارکباد دی۔

بستی ضلع میں بھی انتظامیہ نے اطلاع دی ہے کہ عید الاضحیٰ کی نماز پرامن طریقے سے ادا کی گئی ہے۔ بستی علاقے کے تین اضلاع بستی، سدھارتھ نگر اور سنت کبیر نگر میں اتوار کو عید الاضحی کی نماز کی تکمیل کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس رام کرشن بھاردواج نے کہا کہ بقرعید کی نماز پرامن طریقے سے ادا کی گئی۔ تینوں اضلاع میں نماز کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس گاؤں سے شہر تک حفاظتی انتظامات کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ کنٹرول روم کے ذریعے تمام تھانوں سے لمحہ بہ لمحہ اطلاعات حاصل کی گئیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔