گجرات فساد کا مسلمانوں پر اثر
ان فسادات کے بعد ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی میں تبدیلیاں آئیں۔ گجرات سے نکل کر ہندوستان کی قومی سیاست کے فلک پر نریندر مودی کی آمد ہوئی۔

سال 2002 میں گجرات میں ہوئے فساد نے وہاں کے مسلمانوں اور ایک حد تک ملک بھر کے مسلمانوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان فسادات کے بعد ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی میں تبدیلیاں آئیں۔ گجرات سے نکل کر ہندوستان کی قومی سیاست کے فلک پر نریندر مودی کی آمد ہوئی۔
سابر متی ٹرین کے ڈبے میں گودھرا میں لگی آگ میں کئی ’کار سیوکوں ‘ کی موت کے بعد یہ فساد بھڑکا تھا۔ یہ کارسیوک ایودھیا سے لوٹ رہے تھے۔ اس معاملہ میں سینئر ججوں کی قیادت میں بنائے گئے کمیشن کے ذریعہ دی گئی رپورٹ میں دونوں کمیشنوں کی رپورٹیں مختلف ہیں۔حالانکہ ہندوؤں کے بیچ یہ عام خیال ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے لیکن اس کے بدلے میں جو نقصان ہوا وہ خوفناک ہے۔
مسلمانوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی، خواتین کی آبروریزی کی گئی اور ہزاروں کروڑ کی املاک نیست و نابود کر دی گئی۔
گجرات کے مسلمان ان سماجی کارکنان تیستا سیتلواڑ، ہرش مندر، سینئر پولس افسر شری کمار، راہل شرما اور ایسے ہی بے شمار لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کی زندگی بچانے اور انصاف دلانے کے لئے اپنا کیریر تک داؤ پر لگا دیا۔ ان کے اس عمل سے ہندو -مسلمان ہم آہنگی پر لوگوں کا اعتماد قائم ہوا۔
ان 16 سالوں کے بعد گجرات کے مسلمان اب پہلے سے کہیں زیادہ اعتماد سے لبریز نظر آتے ہیں۔ ملک کے بٹوارے کے بعد یہاں کا مسلمان طبقہ یتیم ہو گیا تھا۔ 1947 سے قبل گجرات سے ہونے والے بیرون ملک کاروبار پر میمن مسلمانوں کا غلبہ تھا لیکن ان کے قومی اہداف بھی تھے۔
ایک مسلم شخص دادا عبد اللہ نے گاندھی جی کے پہلے جنوبی افریقی سفر کا خرچ اٹھایا تھا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کو حبیب مرفانی نے 1943 میں اقتصادی مدد دی تھی۔ ملک کے بٹوارے کے بعد یہ امیر مسلمان پاکستان چلے گئے اور اس کے بعد مسلمان اقتصادی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ کر رہ گئے۔
سال 2002 میں یہاں کے مسلمان دوسرے طبقہ کے لوگوں سے تعلیم، صحت اور ریاست سے ملنے والی امداد میں کافی پیچھے تھے۔ 1947 کے بعد کئی عشروں تک کسی مسلمان کو ریاست میں وزیر یا بڑے افسر کا عہدہ حاصل ہوتے نہیں دیکھا گیا۔ بڑے پیمانے پربغیر کسی سنوائی کے ریاست کی جیلوں میں بند ہیں جو انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ یہ ریاست گجراتی سماج کے فرقہ وارانہ پولرائیزیشن کا بھی آئنہ دار ہے اور یہ اس ریاست کی ایک تکلیف دہ شبیہ ہے جس ریاست نے ملک کو ’بابائے قوم ‘ دیا ہو۔
مسلمانوں کی بد حالی
سال 2002 میں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ظلم و ستم اندر تک توڑ دینے والے تھے۔ انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اب قوم کی از سر نو تعمیر کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کے اتحاد، لڑکے لڑکیوں کی تعلیم اور کاروبار کو ذریعہ معاش بنانے پر زور دیا جانے لگا۔
ایک سروے کے مطابق اب غریب مسلمان بھی اپنے لڑکے، لڑکیوں کو اسکول میں پڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ غریبی کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں نہیں بھیج پاتے ہیں۔ پرائمری اسکولوں میں داخلہ لینے کی شرح زیادہ ہےلیکن سرکاری اسکولوں کی حالت بدتر ہے۔
ان بچوں میں سے کچھ سیکنڈری درجہ تک پہنچ پاتے ہیں تو بہت کم اس سے آگے یونیورسٹی کی پڑھائی کر پاتے ہیں۔ قومی سطح پر کئے گئے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پرائمری اسکولوں میں دلتوں اور قبائلیوں سے زیادہ مسلمانوں کے بچوں کے داخلے ہیں۔ لیکن میٹرک تک آتے آتے یہ شرح گر جاتی ہے اور گریجویشن تک آتے آتے تو بہت ہی کم ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ سرکاری امداد کانہ مل پانا ہے۔ حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی تعلیم کو فروغ دینے کا امکان بے حد کم ہے۔ خاص طور پر اس وقت جبکہ ریاست اور مرکز دونوں جگہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا قبضہ ہو۔
تو غریبی ، ناخواندگی اور اس سیاسی تفریق سے مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے پاس کیا راستہ ہے؟ 2002 کے واقعہ نے مسلمانوں کو اپنے طبقہ کے تئیں چوکنا اور سنجیدہ بنا دیا ہے اور وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ قرآن کریم نے زکوٰۃ کا راستہ مسلمانوں کو دکھایا ۔ اس کے تحت ہر مسلمان اپنی کمائی اور پیسہ کا کچھ حصہ ضروتمندوں کو خیرات میں دیتا ہے۔ عام طور پر ان سے جو بھی مانگا جاتا ہے وہ اسے دے دیتے ہیں۔
گجرات میں دانشوران نے اس بات کے لئے کوششیں کیں کہ زکوۃ کا پیسہ غریب ترین مسلمانوں کی تعلیم اور علاج میں خرچ کیا جائے۔
مسلمانوں میں تبدیلی
دس سالوں میں زکوۃ کا فائدہ اٹھانے والے طلباء کی تعداد50-60 سے شروع ہو کر ہزاروں میں پہنچ گئی ہے اور اس میں سینکڑوں کی تعداد میں لڑکیاں بھی شامل ہیں ۔ یہ تمام طلباء میڈیکل، پیرا میڈیکل یا پھر انجینئرنگ سے وابستہ ہیں۔
اب مسلمانوں میں ڈاکٹروں اور انجینئروں کی ایک چھوٹی تعداد پیدا ہو گئی ہے اور ان کی آمدنی اپنے والدین کی آمدنی سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس سے مسلم خاندانوں کی زندگیاں کافی حد تک بدل گئیں ہیں۔
سیاست اور مسلمان
فساد کے بعد سیاست میں مسلمانوں کی حصہ داری پر سوال کھڑے ہو گئے۔ ایک شہری کے طور پر انہیں حکومت کا حصہ ہونا چاہئے یا نہیں۔ لیکن گجرات ہی نہیں یہ صورت حال دیگر ریاستوں میں بھی ہے اور سیاست میں مسلمانوں کے تئیں ایک طرح کا ’اسلام فوبیا‘ موجود ہے۔
مسلمان آبادی کا 14 فیصد ہیں اور محض 4 پارلیمانی حلقہ انتخاب ایسے ہیں جہاں صد فیصد مسلم آبادی ہے، جبکہ دس ایسے حلقے ہیں جہاں مسلمان 50 سے 80 فیصد تک ہیں۔ ایسے حالات میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کاری کی سیاست کا کیا مطلب رہ جاتا ہے۔
سیاست میں مسلمانوں کی فعال طور پر شراکت داری بی جے پی کی پولرائیزیشن کی سیاست کو آسان بنا دیتی ہے۔ ایسے حالات میں درست یہی ہے کہ سیدھے طور پر سیاست میں آنے کے بجائے صرف ووٹ دینے تک اپنے آپ کو محدود رکھا جائے۔ مسلمانوں کو پورا دھیان سماجی ، اقتصادی اور تعلیمی فروغ پر دینا چاہئے۔
اس معاملہ میں یہودیوں سے عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہٹلر کی تاناشاہی اور ظلم کو جھیلنے کے بعد ان باتوں پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی۔ اور رفتہ رفتہ ایسا وقت بھی آیا جب وہ اسرائیل کو لے کر امریکہ اور یورپ کی پالیسیوں کو قابو کرنے کی صورت حال میں پہنچ گئے۔
بشکریہ بی بی سی
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
