پنجاب کے وزیر سنجیو اروڑہ اور ساتھیوں کے ٹھکانوں پر ای ڈی کی چھاپہ ماری، حوالہ اور سٹہ بازی روابط کی جانچ
ای ڈی نے پنجاب کے وزیر سنجیو اروڑہ اور ان کے ساتھیوں کے متعدد ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ جانچ میں حوالہ، سٹہ بازی اور منی لانڈرنگ کے بڑے نیٹ ورک سے جڑے ہونے کے شکوک سامنے آئے ہیں

چنڈی گڑھ: پنجاب حکومت کے کابینہ وزیر اور تاجر سنجیو اروڑہ اور ان کے کاروباری شراکت داروں کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائی شروع کی ہے۔ جمعہ کے روز ای ڈی کی ٹیموں نے لدھیانہ، جالندھر اور دیگر مقامات پر ایک ساتھ دبش دی اور سنجیو اروڑہ، ہیمنت سود اور چندرشیکھر اگروال کے گھروں اور دفاتر کی تلاشی لی۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایک وسیع رئیل اسٹیٹ اور مالیاتی نیٹ ورک کی جانچ کا حصہ ہے۔ سنجیو اروڑہ ہیمپٹن اسکائی ریئلٹی لمیٹڈ (سابقہ رِتیش پراپرٹیز اینڈ انڈسٹریز لمیٹڈ) کے پروموٹر ہیں، جو پنجاب میں بڑے پیمانے پر انفرا اور رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے وابستہ ہے۔ کمپنی کے موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر ان کے بیٹے کاویہ اروڑہ ہیں، جن کے ٹھکانوں پر بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔
ای ڈی کو شبہ ہے کہ کمپنی نے زمین کے استعمال میں غیر قانونی تبدیلیاں کرنے، حصص کی قیمتیں بڑھانے کے لیے فرضی فروخت دکھانے اور اندرونی تجارت کے ذریعے مالی فائدہ اٹھانے جیسے معاملات میں بے ضابطگیاں کی ہیں۔ اس کے علاوہ یو اے ای سے غیر قانونی طور پر کمائے گئے سرمائے کو واپس ہندوستان لانے، اور سٹہ بازی سے حاصل رقم کو جائز سرمایہ کاری کے طور پر دکھانے کے الزامات بھی زیرِ جانچ ہیں۔
ہیمَنت سود، جو لدھیانہ، گڑگاؤں اور گجرات انٹرنیشنل فنانس ٹیک سٹی میں فائنڈوک فِن ویسٹ پرائیویٹ لمیٹڈ چلاتے ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے سنجیو اروڑہ کے ساتھ مل کر غیر قانونی سرمائے کی راؤنڈ ٹرپنگ اور منی لانڈرنگ میں مدد کی۔ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی سٹہ بازوں اور حوالہ آپریٹروں کے کالے دھن کو صاف کرنے اور اسے بیرونی سرمایہ کار راستے سے دوبارہ ہندوستان میں داخل کرنے میں کردار ادا کیا۔
چندرشیکھر اگروال، جو جالندھر کے تاجر ہیں، کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے بطور کرکٹ بکی اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد میں حوالہ آپریشن تک اپنے نیٹ ورک کو وسعت دی۔ ان پر ‘کھلاڑی بک’ نامی پلیٹ فارم کے ذریعے سٹہ بازی کا کاروبار چلانے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو مالی نقصان پہنچانے کے الزامات ہیں۔ جانچ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کے غیر قانونی سرمائے کو فائنڈوک کے ذریعے واپس لا کر رئیل اسٹیٹ میں لگایا گیا۔
ای ڈی کو یہ بھی شبہ ہے کہ سنجیو اروڑہ نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کیا اور اس کے بدلے منافع میں حصہ لیا۔ مزید برآں، ان کی کمپنیوں پر فرضی برآمدی بل بنانے، جعلی جی ایس ٹی اداروں کے ذریعے خریداری ظاہر کرنے اور مالی لین دین میں بے ضابطگیوں کے الزامات بھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ای ڈی کی یہ کارروائی جاری ہے اور مزید انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔