انل امبانی کی کمپنی سے جڑے ٹھکانوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ ماری
ای ڈی نے انل امبانی کی کمپنی ریلائنس پاور سے جڑے کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔ یہ کارروائی ریلائنس کمیونیکیشنز سے وابستہ بینک دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں کی جا رہی ہے

ممبئی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے صنعت کار انل امبانی کی کمپنی ریلائنس پاور سے جڑے مختلف مقامات پر چھاپہ ماری کی کارروائی شروع کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ممبئی اور حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں تقریباً 10 سے 12 مقامات پر یہ کارروائی جاری ہے۔ جانچ ایجنسی کی پندرہ ٹیمیں صبح سے مختلف ٹھکانوں پر تلاشی لے رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ریلائنس کمیونیکیشنز لمیٹڈ سے جڑے بینک دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔ جانچ کا دائرہ ریلائنس پاور لمیٹڈ سے وابستہ بعض افراد تک بھی بڑھایا گیا ہے۔
اس سے پہلے 25 فروری کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ریلائنس کمیونیکیشنز سے جڑے اسی معاملے میں انل امبانی کی ممبئی کے پالی ہل علاقے میں واقع رہائشی جائیداد ’ابوڈ‘ کو عارضی طور پر ضبط کر لیا تھا۔ اس جائیداد کی قیمت تقریباً 3717 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس کارروائی کے بعد اس گروپ سے وابستہ ضبط شدہ جائیدادوں کی مجموعی مالیت پندرہ ہزار سات سو کروڑ روپے سے زیادہ ہو چکی ہے۔
یہ کارروائی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے خصوصی دستے نے منی لانڈرنگ انسداد قانون دو ہزار دو کے تحت کی تھی۔ اس سے قبل اسی جائیداد کے ایک حصے کو چار سو تہتر اعشاریہ سترہ کروڑ روپے کی حد تک منسلک کیا جا چکا تھا۔ہے۔
جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریلائنس کمیونیکیشنز اور اس کی ذیلی کمپنیوں نے ملکی اور غیر ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے بڑی مقدار میں قرض حاصل کیا تھا۔ ان قرضوں میں سے تقریباً چالیس ہزار ایک سو پچاسی کروڑ روپے کی رقم ابھی تک بقایا ہے اور ان میں سے کئی کھاتے غیر کارکردہ اثاثے بن چکے ہیں۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ پالی ہل کی یہ جائیداد ایک نجی خاندانی ٹرسٹ کے نام منتقل کر دی گئی تھی، جو انل امبانی کے خاندان کے افراد سے جڑا ہوا ہے۔ جانچ ایجنسی کے مطابق اس کارپوریٹ تنظیم نو کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ انل امبانی کا اس جائیداد سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا ماننا ہے کہ اس انتظام کا مقصد جائیداد کو محفوظ رکھنا اور اسے ان ذاتی ذمہ داریوں سے بچانا تھا جو ریلائنس کمیونیکیشنز کو دیے گئے بینک قرضوں کے بدلے انل امبانی نے ذاتی ضمانت کے طور پر قبول کی تھیں۔ ایجنسی کے مطابق اس جائیداد سے حقیقی فائدہ امبانی خاندان کو حاصل ہو رہا تھا، جب کہ سرکاری بینکوں کے پھنسے ہوئے قرضوں کی وصولی اب تک ممکن نہیں ہو سکی
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔