اقتصادی کرائم برانچ کا 128 کروڑ روپے کے فرضی جی ایس ٹی ریکیٹ پر شکنجہ، 8 گرفتار

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین کی جانب سے لوگوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر دستاویزات حاصل کئے جاتے تھے اور ان کے نام پر فرضی کمپنی بنا کر کروڑوں روپے کا جی ایس ٹی فراڈ کیا جارہا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>گرفتاری کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

دہلی پولیس کے ای او ڈبلیو یعنی اقتصادی جرائم ونگ (قانون نافذ کرنے والا) نے 128 کروڑ روپے کے فرضی جی ایس ٹی انوائس گھپلے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 2 اور ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ اس ہائی پروفائل فراڈ کیس میں اب تک 8 ملزمین کو جیل بھیجا جا چکا ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں کو روزگار کا جھانسہ دے کر دستاویزات حاصل کئے جاتے تھے اور ان کے نام پر فرضی کمپنی بنا کر کروڑوں روپے کا جی ایس ٹی فراڈ کیا جارہا تھا۔

ای او کے مطابق یہ پورا کھیل فرضی کمپنیاں بنا کرنقلی جی ایس ٹی بل اور جعلی ٹیکس ریفنڈ کے ذریعے سرکاری خزانے کو دھوکہ دینے کے لیے تھا۔ شکایت کنندہ کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے آر کے انٹرپرائزز نام سے فرضی فرم بنائی گئی تھی۔


تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم پنیت نے جو شکایت کنندہ کا جاننے والا ہے، سے پولیس اسٹیشن میں نوکری دلانے کے بہانے اس کے شناختی کارڈ اور مالی دستاویزات حاصل کیے۔ یہ دستاویزات بعد میں بھوپال کے رہائشی ہیمنت ملانی عرف ہنی کو بھیجے گئے۔ انہیں دستاویزات کی بنیاد پر ہیمنت ملانی نے دہلی جی ایس ٹی میں فرضی فرم کا رجسٹریشن کرایا اور اس کے ڈیجیٹل کریڈینشیل دوسرے ملزمین کو فروخت کردیئے۔ اس کے بدلے میں کافی رقم وصول کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمین جی ایس ٹی سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھاکر جعلی رسیدیں اور جعلی جی ایس ٹی ریٹرن فائل کرتے تھے۔

گرفتار ملزم ہیمنت ملانی بھوپال سے کامرس گریجویٹ ہے اور اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ جی ایس ٹی ریفنڈ سسٹم اور اس کی تکنیکی خامیوں سے بخوبی واقف تھا۔ اس خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کئی فرضی فرمیں قائم کیں اور ان کے ڈیجیٹل ایکسیس فروخت کرنے لگا۔ وہیں دوسرا ملزم پنیت دہلی کے یمنا وہار میں ٹی وی میکینک کا کام کرتا ہے۔ اپنے کام کے دوران لوگوں کے دستاویزات کی ڈیجیٹل کاپیاں اس کے پاس پہنچتی تھیں جنہیں وہ پیسوں کے لالچ میں گروہ کو فراہم کرتا تھا۔


ای او ڈبلیو کی ٹیم نے اے سی پی وریندر کادیان کی نگرانی میں دہلی-این سی آر کے کئی علاقوں میں مسلسل چھاپے ماری کی۔ اس کے بعد ہیمنت ملانی کو 19 مئی اور پنیت کو 21 مئی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ای او ڈبلیو اب اس پورے نیٹ ورک سے منسلک دیگر فائدہ اٹھانے والوں، شیل کمپنیوں اور ٹیکس چوری کے بڑے سنڈیکیٹ کی چھان بین کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں ممکن ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔