کاغذ والے چیک کی جگہ لے گا ’ای چیک‘! آر بی آئی نے پیش کی نئی تجویز

ریزرو بینک آف انڈیا نے اپنے ’پیمنٹس ویزن 2028‘ ڈاکیومنٹ میں روایتی کاغذ والے چیک کی جگہ ’ای چیک‘ پیش کرنے کی تجویز رکھی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ریزرو بینک آف انڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپنا ’پیمنٹس ویژن 2028‘ ڈاکیومنٹ جاری کر دیا ہے۔ اس میں روایتی کاغذی چیک کی جگہ ای-چیک (الیکٹرانک چیک) متعارف کرانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگی کو مزید آسان، تیز اور محفوظ بنانا ہے۔ یہ ’پیمنٹس ویژن 2028‘ 27 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا۔

سامنے آئی جانکاری کے مطابق ریزرو بینک نے کہا ہے کہ وہ ای-چیک شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گا تاکہ کاغذی آلات کے فوائد کو ڈیجیٹل ادائیگی کی رفتار اور اعتماد کے ساتھ جوڑا جا سکے۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ ’’کاغذی آلات کے منفرد فوائد اور الیکٹرانک ٹرانزیکشنز کی رفتار کے ساتھ ساتھ اعتماد سے فائدہ اٹھانے اور نئے کاروباری استعمال کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان میں الیکٹرانک چیک متعارف کرانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘


دراصل آر بی آئی آئندہ وقت میں روایتی چیک کی خصوصیات کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر ’ای-چیک‘ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس کا مقصد چیک کے ذریعے ادائیگی کو تیز کرنا اور دھوکہ دہی کے امکانات کو کم کرنا ہے۔ آر بی آئی ای-کامرس مارکیٹ پلیس اور سنٹرلائزڈ پلیٹ فارم جیسے اداروں کو شامل کرنے کے لیے ضابطہ جاتی دائرہ کار کو بڑھانے پر بھی غور کر رہا ہے، جو ڈیجیٹل لین دین کو آسان بنانے میں کافی اہم ہیں۔

’پیمنٹس ویژن 2028‘ ڈاکیومنٹ میں ’ای-چیک‘ کے علاوہ بھی کچھ اہم باتیں موجود ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’ای-کامرس مارکیٹ پلیس اور سنٹرلائزڈ پلیٹ فارم اہم ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، جن کا ادائیگی کے نظام کے درست کام کرنے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو ایسے اداروں کو شامل کرنے کے لیے براہِ راست ضابطہ جاتی دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا۔‘‘ اس قدم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ادائیگی کے نظام میں شامل تمام ادارے جوابدہ ہوں۔


ویژن ڈاکیومنٹ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ صارفین کو مختلف ڈیجیٹل ادائیگی والے طریقوں کے ذریعہ ہونے والے لین دین کو آن یا آف کرنے کی سہولت دی جائے، بالکل اسی طرح جیسے کارڈ ٹرانزیکشنز کے لیے کنٹرول دستیاب ہوتے ہیں۔ جیسے اس وقت ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کو ایپ کے ذریعہ آن یا آف کیا جا سکتا ہے، ویسی ہی سہولت یو پی آئی، نیٹ بینکنگ اور دیگر تمام ڈیجیٹل ادائیگی والے طریقوں کے لیے فراہم کی جائے گی۔ اس سے صارفین کا اپنے لین دین پر کنٹرول بڑھے گا اور سیکورٹی بھی مضبوط ہوگی۔

دھوکہ دہی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے آر بی آئی ایک ’مشترکہ ذمہ داری فریم ورک‘ پر بھی غور کر رہا ہے، جس کے تحت غیر مجاز ڈیجیٹل لین دین کے معاملوں میں رقم جاری کرنے والا بینک اور فائدہ اٹھانے والا بینک دونوں ہی مشترکہ طور پر ذمہ داری اٹھائیں گے۔ یعنی اب ڈیجیٹل فراڈ کے معاملات میں صرف صارف کا بینک ہی ذمہ دار نہیں ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔