نیند-جھپکی بنا سب سے بڑا خطرہ: گزشتہ 14 سال میں یمنا ایکسپریس وے پر پیش آئے 8812 حادثات

گزشتہ 14 سالوں میں پیش آئے مجموعی حادثات میں تقریباً 42 فیصد حادثات میں ڈرائیور کو نیند یا جھپکی آنے کو اہم وجہ مانا گیا۔ اس کے علاوہ 22.7 فیصد حادثات لاپرواہی کے سبب پیش آئے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

یمنا ایکسپریس وے پر تیز رفتاری سے دوڑتی گاڑیوں کے درمیان ڈرائیورں کی ایک چھوٹی سے غلطی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ گزشتہ 14 سالوں کے اعداد و شمار اس کی خوفناک تصاویر پیش کر رہی ہیں۔ 2012 سے 2025 کے درمیان یمنا ایکسپریس وے پر 8812 سڑک حادثات پیش آئے، یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 2 حادثات ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ 3700 حادثات ڈرائیور کو نیند یا جھپکی آنے کے باعث پیش آئے، جبکہ اوور اسپیڈنگ کی وجہ سے 1319 اور ٹائر پھٹنے سے 853 حادثات پیش آئے۔

آر ٹی آئی کے ذریعہ سامنے آئی جانکاری کے مطابق 165 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے پر حادثات کے پیچھے سڑک سے زیادہ انسانی غلطی بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ گزشتہ 14 سالوں میں پیش آئے مجموعی حادثات میں تقریباً 42 فیصد حادثات میں ڈرائیور کو نیند یا جھپکی آنے کو اہم وجہ مانا گیا۔ اس کے علاوہ 22.7 فیصد حادثات لاپرواہی کے سبب پیش آئے، جبکہ تقریباً 15 فیصد حادثات کے پیچھے اوور اسپیڈنگ ذمہ دار رہی۔ اعداد و شمار اس لیے بھی تشویش بڑھا رہے ہیں کیونکہ حالیہ سالوں میں حادثات کی تعداد میں تیزی آئی ہے۔ 2022 میں 311 حادثات درج ہوئے تھے جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 659 تک پہنچ گئی، یعنی 3 سالوں میں حادثات کی تعداد دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئی۔


قابل ذکر ہے کہ ایکسپریس وے پر اوور لوڈ گاڑیوں کی آمد و رفت بھی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ 2025 میں 25731 اوور لوڈ گاڑیاں پکڑی گئیں۔ اس کے باوجود بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہنے سے نگرانی اور انفورسمنٹ سسٹم پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایکسپریس وے پر حادثات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف بہتر سڑک بنا دینا کافی نہیں ہے۔ محفوظ سفر کے لیے ڈرائیوروں کو باقاعدہ وقفوں پر آرام، رفتار کی حد پر عمل اور ٹریفک قوانین کے تئیں بیدار کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اوور اسپیڈنگ اور اوول لوڈنگ پر مؤثر نگرانی بڑھانے کی ضرورت ہے۔