’ہمالیہ کو صرف پہاڑ سمجھنے کی غلطی نہ کریں‘، نیپال میں ہوئی تباہی کے بعد ہندوستان پر منڈلا رہا خطرہ!
رپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں کئی گلیشیئر جھیلیں خطرے کے زمرے میں ہیں۔ ان میں 189 جھیلوں کو زیادہ خطرے والی اور 56 کو انتہائی زیادہ خطرے والی بتایا گیا ہے

نیپال میں آئی تباہی کے بعد مختلف پہاڑوں اور گلیشیئرز کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا جانا شروع ہو چکا ہے۔ اس درمیان ہمالیہ پہاڑ سے متعلق ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے جو فکر انگیز ہے اور اسے مقررہ وقت سے پہلے جاری کرنا پڑا ہے۔ پوری رپورٹ اکتوبر میں آنے والی تھی لیکن 26 اگست کو نیپال-تبت سرحد پر ہوئی بڑی تباہی کے بعد اس کا مختصر حصہ اچانک جاری کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہمالیہ کو صرف پہاڑ سمجھنا بڑی بھول ہوگی کیونکہ ہندوستان کا پانی، زراعت، بجلی اور معیشت اس سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
عام طور پر کوئی تحقیقی رپورٹ مقررہ وقت پر جاری ہوتا ہے لیکن ہمالیہ کو لے کر آنے والی یہ رپورٹ وقت سے پہلے جاری کیا گیا ہے۔ اس کے سرورق پر ہی اسے ’ایمرجنسی ایشو‘ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کا نام ’پراسپرس اینڈ ریزیلینٹ ہمالیاز‘ ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ہمالیہ کو اب صرف پہاڑ سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کے لیے پانی، بجلی، زراعت اور معیشت کا بڑا سہارا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمالیہ سے ملنے والا پانی ہندوستان کی جی ڈی پی کے 20 فیصد سے زیادہ حصے کو سہارا دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمالیہ میں ہونے والی تبدیلی صرف پہاڑوں تک محدود نہیں رہے گی۔ ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں کا پانی کھیتوں تک پہنچتا ہے، بجلی بنانے میں کام آتا ہے اور شہروں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس لیے اگر ہمالیہ کا قدرتی نظام کمزور ہوا تو اس کا اثر ملک کی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں ایک اور بڑی بات کہی گئی ہے۔ ہمالیہ سے ملنے والے پانی اور دیگر وسائل سے ہونے والے معاشی فوائد کا بڑا حصہ میدانی علاقوں تک پہنچتا ہے لیکن سیلاب، تودے گرنے اور دوسری آفات کا سب سے زیادہ خطرہ پہاڑی ریاستوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ وہیں پہاڑوں میں سڑک، بجلی، اسکول اور اسپتال جیسی سہولتیں پہنچانا بھی میدانوں کے مقابلے میں کافی مہنگا پڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے کچھ حصے دنیا کے اوسط درجہ حرارت کے مقابلے میں 2 سے 3 گنا تیزی سے گرم ہو رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا اثر گلیشیئرز پر دکھائی دے رہا ہے۔ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ یہ صرف آج کے پانی کا سوال نہیں ہے۔ گلیشیئر مستقبل کے لیے جمع پانی کا قدرتی ذخیرہ بھی ہیں۔
رپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں کئی گلیشیئر جھیلیں خطرے کے زمرے میں ہیں۔ ان میں 189 جھیلوں کو زیادہ خطرے والی اور 56 کو انتہائی زیادہ خطرے والی بتایا گیا ہے۔ ان کا خطرہ اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، سکم، اروناچل پردیش، لداخ اور جموں و کشمیر جیسے علاقوں میں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہمالیہ میں اچانک آنے والے سیلاب اور تودے گرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2013 کی کیدارناتھ آفت میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے یا لاپتہ ہو گئے۔ 2021 میں چمولی کی رشی گنگا وادی میں آنے والی آفت میں 200 سے زیادہ افراد کی جان گئی۔ 2023 میں سکم میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کے بعد تیستا وادی میں زبردست تباہی ہوئی۔ ان واقعات نے دکھایا ہے کہ پہاڑوں میں ہونے والا ایک واقعہ چند ہی وقت میں نیچے رہنے والے لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔
گلیشیئرز کی بات تو اکثر ہوتی ہے لیکن پہاڑوں کے چھوٹے چشموں پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستانی ہمالیہ میں 30 لاکھ سے زیادہ چشمے ہیں۔ ان میں سے تقریباً نصف یا تو سوکھ چکے ہیں یا اب پورے سال پانی نہیں دیتے۔ پہاڑوں کے گاؤں میں پینے اور زراعت کے لیے ان چشموں کا کافی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ان کا سوکھنا بھی بڑی تشویش ہے۔ بہرحال، ہمالیہ کے گلیشیئرز کے لیے بلیک کاربن یعنی کاجل بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر صنعتوں سے نکلنے والی یہ کاجل ہوا کے ساتھ اوپر پہاڑوں تک پہنچ سکتی ہے۔ جب یہ برف پر جمتی ہے تو برف زیادہ گرمی جذب کرتی ہے اور تیزی سے پگھل سکتی ہے۔ یعنی میدانوں میں نکلنے والا دھواں پہاڑوں کی برف پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔
رپورٹ میں ہمالیہ کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی بڑھانا، سیلاب کی پہلے سے انتباہ دینے والے نظام کو مضبوط کرنا، چشموں کو دوبارہ بحال کرنا، بلیک کاربن کو کم کرنا اور جنگلات کو بچانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہاڑوں میں تعمیرات وہاں کی زمین اور خطرے کو دیکھتے ہوئے کی جانی چاہئیں، یعنی جہاں سیلاب یا تودے گرنے کا خطرہ زیادہ ہے وہاں بغیر سوچے سمجھے تعمیرات نہیں ہونی چاہئیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
