دِشا سالیان معاملہ: وکیل نیلیش اوجھا کی سی بی آئی کو گواہوں کے بیانات اور تین ویڈیوز کی فراہمی
دشا سالیان معاملے میں وکیل نیلیش اوجھا نے سی بی آئی کو دو مبینہ عینی شاہدوں کے بیانات اور تین ویڈیوز پر مشتمل پین ڈرائیو سونپی ہے۔ انہوں نے بیانات اور سی سی ٹی وی میں تضاد کا دعویٰ کیا

ممبئی: دشا سالیان معاملے میں وکیل نیلیش اوجھا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو ایک پین ڈرائیو سونپی ہے، جس میں دو مبینہ عینی شاہدوں کے بیانات اور تین ویڈیوز شامل ہیں۔ اوجھا کے مطابق ان بیانات میں آدتیہ ٹھاکرے اور دیگر ملزمان کے مبینہ کردار سے متعلق سنگین الزامات ہیں۔ انہوں نے معاملے میں پولیس کے ساتھ مبینہ طور پر پردہ پوشی کیے جانے کا بھی الزام لگایا ہے۔
اوجھا نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ وہ پہلے ہی خط کے ذریعے سی بی آئی کو ان معلومات سے آگاہ کر چکے تھے۔ اب پین ڈرائیو کے ذریعے معاملے سے متعلق تین اہم گواہوں کی معلومات بھی تفتیشی ایجنسی کو فراہم کی گئی ہیں، جن میں دو مبینہ عینی شاہد شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش متاثر نہ ہو، اس لیے فی الحال تمام معلومات عام نہیں کی جا رہی ہیں۔
اوجھا نے اسلم شیخ کے مبینہ کارکن نوید مجاور کے بیانات پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق مجاور کے پولیس کے سامنے دیے گئے بیان اور بعد میں ریکارڈ کیے گئے ویڈیو بیان میں تضاد ہے۔ پولیس کو دیے گئے بیان میں مجاور نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ جائے وقوعہ پر موجود تھا اور اس نے دشا کو اوپر سے گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسی بیان میں دشا کے لباس کا ذکر سرخ ٹی شرٹ اور کریم رنگ کی پتلون کے طور پر کیا گیا تھا۔
اوجھا کا دعویٰ ہے کہ مجاور کے ایک دیگر ویڈیو بیان میں واقعے کے وقت اور دشا کے لباس سے متعلق مختلف معلومات سامنے آتی ہیں۔ ان کے مطابق ان تضادات کی وجہ سے گواہ کے بیان کی صحت پر سوال اٹھتے ہیں اور ان کی حقیقت کی جانچ سی بی آئی کو کرنی ہوگی۔
انہوں نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا حوالہ دیتے ہوئے واقعے کے وقت پر بھی سوال اٹھایا۔ اوجھا کے مطابق ایک جانب دشا کے گرنے کا وقت رات تقریباً ایک بج کر 20 منٹ بتایا گیا ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں پولیس اہلکار رات تقریباً 12 بج کر 50 منٹ پر جائے وقوعہ پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فرق کی بنیاد پر پہلے سامنے آئے بعض بیانات اور واقعات کی ترتیب کی جانچ ضروری ہے۔
اوجھا نے یہ بھی بتایا کہ معاملے سے وابستہ افراد کو مبینہ دھمکیوں کے پیش نظر چار افراد کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ ان میں سمیر وانکھیڑے، ستیش سالیان، آشوتوش پاٹھک اور خود نیلیش اوجھا شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں بھی سی بی آئی کو خط دیا گیا ہے۔
اوجھا نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم میں ثبوت فراہم کیے جانے کے بعد مزید کارروائی کا راستہ کھولنے کی بات کہی گئی تھی۔ ان کے مطابق اب سی بی آئی کو ثبوت فراہم کر دیے گئے ہیں اور پین ڈرائیو سے متعلق رسمی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے تفتیشی عمل کے تحت مشتبہ افراد کی جلد گرفتاری، ضرورت پڑنے پر لک آؤٹ نوٹس جاری کرنے اور عدالت سے گرفتاری وارنٹ حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ تاہم، ان کے دعووں اور فراہم کردہ مواد کی تصدیق یا ان کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ کرنا اب سی بی آئی کی تفتیش پر منحصر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
