لوک سبھا میں ’اینٹی پیپر لیک بل‘ پر بحث شروع، وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر موجودگی پر اپوزیشن ناراض
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بتایا کہ انھوں نے کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے اور این سی پی سمیت سبھی پارٹیوں کے لیڈران اور چیف وہپ سے بات کر بحث کے وقت کو بڑھا کر 8 گھنٹہ کر دیا ہے۔

لوک سبھا میں آج 2 بجے جب کارروائی شروع ہوئی تو ’اینٹی پیپر لیک بل‘ یعنی ’دی پبلک اگزامنیشن (پریونشن آف انفیئر مینس) امینڈمنٹ بل، 2026‘ پر بحث کے لیے راستہ ہموار نظر آیا۔ حالانکہ لوک سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر موجودگی پر اپوزیشن نے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی ایوان میں غیر موجودگی پر سوال اٹھایا۔ حالانکہ اس معاملہ کو زیادہ طول نہیں دیا گیا اور ایوان میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کی شروعات ہوئی۔
ابتدا میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان کو مطلع کیا کہ انھوں نے کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے اور این سی پی سمیت سبھی پارٹیوں کے لیڈران اور چیف وہپ سے بات چیت کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سبھی پارٹیوں کے اتفاق سے 6 گھنٹے کی مقررہ بحث کو بڑھا کر 8 گھنٹے کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ رجیجو نے ایوان سے یہ بھی کہا کہ اگر اپوزیشن کو مزید 2 گھنٹے چاہیے، تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یعنی بحث کے لیے تقریباً 10 گھنٹے دستیاب کیے جا سکیں گے۔
اس سے پہلے کہ وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ پیپر لیک معاملہ پر اپنی بات رکھتے، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کچھ باتیں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج کا دن ہم سب کے لیے اہم ہے، جب برسراقتدار طبقہ اور حزب اختلاف دونوں اس بل پر بحث کے لیے متفق ہوئے۔ اس بل کا مقصد پبلک اگزامنیشن کو مزید شفاف بنانا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’امتحان کے نظام میں بہتری اور شفافیت ملک کے مفاد کا موضوع ہے۔ پورا ملک چاہتا ہے کہ سبھی اراکین مثبت نظریہ پیش کریں اور تخلیقی باتیں کریں، جس سے ہم ایک بہتر قانون بنا سکیں۔ قانون جتنا بہتر ہوگا، ہم امتحان کے نظام کو اتنا ہی شفاف بنا سکتے ہیں۔‘‘
اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیپر لیک معاملہ میں اپنی صفائی پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ امتحانات میں پیپر لیک ہوتے رہے ہیں۔ پیپر لیک کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہا، لیکن شاید اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی جیسی کہ اب کی جا رہی ہے۔ انھوں نے 2009 میں ریلوے بھرتی پیپر لیک سے 2012 کے ایمس انٹرنس پیپر لیک تک کانگریس کے دور میں ہوئے پیپر لیک کا ذکر کیا اور کہا کہ اسی لیے اب ایک ’فل پروف سسٹم‘ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں امتحان کے لیے 4 اہم ایجنسیاں ہیں۔ 1992 میں جب حکومت کانگریس کی تھی، ایک کمیٹی نے مشورہ دیا تھا کہ مرکزی امتحان کمیٹی تشکیل دی جائے۔ 2010 میں بھی ایک کمیٹی نے ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔ کانگریس اور یو پی اے کی حکومتوں نے مشورہ پر عمل نہیں کیا۔ اس بل کے جو بنیادی مقاصد تھے، وہ امتحان میں شفافیت اور اصلاح کو یقینی بنانا تھا۔ مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ ’’طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہمیں 2024 کے بل کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اسی قانون میں ترمیم کے لیے بل لائے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
