’محمد شامی کو موقع نہ ملنے پر مایوس ہوں‘، ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر روی شاستری کا جذباتی ردعمل

روی شاستری نے محمد شامی کے متعلق کہا کہ ’’افسوس کی بات ہے جب ملک کے لیے اتنا اچھا کھیلنے والے کو جانا پڑتا ہے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ ان میں مزید 30 یا 40 وکٹیں لینے کی صلاحیت تھی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>روی شاستری، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستانی ٹیم کے سابق کپتان اور سابق ہیڈ کوچ روی شاستری نے ٹیم انڈیا کے ٹیسٹ سیٹ اپ سے محمد شامی کو نظر انداز کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ شاستری نے کہا کہ شامی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بنگال کی جانب سے مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اپنی فارم اور فٹنس ثابت کی ہے۔ شاستری نے شامی کو موقع نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور ان کی فٹنس پر اٹھائے جانے والے سوالات کے باوجود فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے کام کے بوجھ کی جانب اشارہ کیا۔

محمد شامی طویل ترین فارمیٹ میں ہندوستان کے سب سے قابل تیز گیندبازوں میں سے ایک رہے ہیں۔ وہ بنگال کی جانب سے باقاعدگی سے کھیلتے رہے ہیں اور انہوں نے گیند بازی کی بڑی ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں۔ شاستری کا خیال تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے اس تیز گیندباز کی تیاری کا اندازہ لگانے میں ان کارکردگیوں کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔ ہندوستان کے سابق ہیڈ کوچ نے کہا کہ میچوں کے دوران طویل اسپیل تک گیند بازی کرنے کی گیندباز کی صلاحیت ہی اس کی فٹنس کا اصل پیمانہ ہونی چاہیے۔


روی شاستری نے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف جاری دوسرے ونڈے میچ سے قبل ’سونی اسپورٹس نیٹورک‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر آپ میچ میں 10 یا 12 اوور نہیں کر سکتے تو جم میں فٹ رہنے کا کیا فائدہ؟ یہاں آپ کے پاس ایک محنتی کھلاڑی ہے جو آپ کے لیے گیند بازی کر رہا ہے۔ اس لیے مجھے تھوڑی مایوسی ہے کہ انہیں دوبارہ موقع نہیں ملا۔‘‘ سابق کپتان نے کہا کہ ’’شامی کا ڈومیسٹک کرکٹ میں کام کا بوجھ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ وہ مسابقتی کرکٹ کے جسمانی تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ جب ٹیموں کو مشکل بین الاقوامی سیزن کے دوران اہم کھلاڑیوں کی انجری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایک تجربہ کار تیز گیندباز کا ہونا کتنا ضروری ہے۔‘‘

سابق ہیڈ کوچ روی شاستری کا محمد شامی کے متعلق کہنا ہے کہ ’’میں نے ان کی فٹنس ٹھیک نہ ہونے کے بارے میں یہ تمام پریس رپورٹ سنی ہیں، لیکن وہ بنگال کے لیے ہر میچ کھیل رہے تھے۔ وہ 15 سے 20 اوور گیند بازی کر رہے تھے۔ آپ ایک کھلاڑی سے اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے اور کیا چاہتے ہیں؟ یہ افسوس کی بات ہے جب ملک کے لیے اتنا اچھا کھیلنے والے کو جانا پڑتا ہے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ ان میں مزید 30 یا 40 وکٹیں لینے کی صلاحیت تھی۔ انہیں گزشتہ 12 ماہ کے دوران کھیلنا چاہیے تھا اور شاید ٹیسٹ میچ گیندباز کے طور پر ٹیم میں ہونا چاہیے تھا۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار تیز گیندباز محمد شامی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ جمعہ یعنی 6 نومبر کو، شامی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں سب کو دیوالی کی مبارکباد پیش کی اور ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے آخری بار ہندوستانی ٹیم کے لیے جون 2023 میں آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کا فائنل کھیلا تھا۔ شامی فی الحال وائٹ بال کرکٹ او ڈی آئی اورٹی-20 انٹرنیشنل میں ہندوستانی ٹیم کے لیے دستیاب رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔