باسمتی چاول اور نامیاتی کپاس کے مسائل پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کا مطالبہ

دگوجے سنگھ نے باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت اور نامیاتی کپاس میں بے ضابطگیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسانوں کو انصاف مل سکے

<div class="paragraphs"><p>دگوجے سنگھ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بھوپال: مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگوجے سنگھ نے مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل کو خط لکھ کر ریاست میں پیدا ہونے والے باسمتی چاول اور نامیاتی کپاس سے جڑے اہم مسائل پر اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس اجلاس میں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان اور زرعی و پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات سے متعلق ادارے کے اعلیٰ افسران کی شرکت کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔

اپنے خط میں دگوجے سنگھ نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے باسمتی چاول پیدا کرنے والے کسان کئی برسوں سے جغرافیائی شناختی ٹیگ کی مانگ کر رہے ہیں، لیکن اب تک اس سمت میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شناخت کے نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں کے تاجر مدھیہ پردیش میں پیدا ہونے والے باسمتی چاول کو اپنے نام سے بیرون ملک برآمد کر رہے ہیں، جس کے باعث مقامی کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر باسمتی چاول کو جغرافیائی شناخت مل جائے تو نہ صرف کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی بلکہ عالمی منڈی میں مدھیہ پردیش کی پہچان بھی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے اور جلد فیصلہ کرنے پر زور دیا تاکہ کسانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


دوسری جانب نامیاتی کپاس کے معاملے پر بھی انہوں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ دگوجے سنگھ نے الزام لگایا کہ کچھ تاجر، تصدیقی ادارے اور متعلقہ افسران کی ملی بھگت سے عام بی ٹی کپاس کو نامیاتی کپاس کے طور پر تصدیق دے کر برآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بے ضابطگیاں نہ صرف اصل نامیاتی کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی ان مسائل کو راجیہ سبھا میں اٹھا چکے ہیں اور اس سلسلے میں وزیر اعظم اور متعلقہ وزراء کو خطوط بھی لکھ چکے ہیں، لیکن اب تک کوئی اطمینان بخش کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان کسانوں میں مایوسی پیدا کر رہا ہے۔

دگوجے سنگھ نے تجویز پیش کی کہ مجوزہ اجلاس میں باسمتی چاول کی جغرافیائی شناخت کے عمل کو تیز کرنے اور نامیاتی کپاس کی پیداوار و برآمد کے نظام میں شفافیت لانے پر تفصیلی گفتگو کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف کسانوں کو براہ راست فائدہ ہوگا بلکہ ملک کی برآمدی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔

آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد اجلاس کی تاریخ طے کرے گی اور ان دونوں اہم مسائل کا مؤثر حل نکالنے کے لیے سنجیدہ قدم اٹھائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔