ڈیجیٹل اریسٹ: 2026 میں اب تک 9400 واٹس ایپ اکاؤنٹس پر لگی پابندی، مرکز نے سپریم کورٹ کو دی جانکاری
انڈین سائبر کرائم کوآرڈنیشن سنٹر (آئی 4 سی)، جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے، نے سپریم کورٹ کی 9 فروری کی ہدایات کے بعد ڈیجیٹل اریسٹ سے متعلق ایک تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ ملک میں بڑھتے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانہ پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس کارروائی میں ٹیلی کام ریگولیٹری، سروس پرووائیڈر، آر بی آئی، تکنیکی کمپنیاں اور سی بی آئی سمیت کئی ایجنسیاں مل کر کام کر رہی ہیں۔ اس دوران واٹس ایپ نے جنوری 2026 سے اب تک ایسے 9400 اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے جو ان سائبر جرائم میں شامل پائے گئے۔
انڈین سائبر کرائم کوآرڈنیشن سنٹر (آئی 4 سی)، جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے، نے سپریم کورٹ کی 9 فروری کی ہدایات کے بعد ڈیجیٹل اریسٹ سے متعلق ایک تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ جیسے آن لائن فراڈ معاملوں پر روک لگانے کے لیے کئی سطحوں پر قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے اس معاملہ کا از خود نوٹس لیا تھا۔ عدالت نے آر بی آئی، محکمہ ٹیلی مواصلات اور دیگر ایجنسیوں کو مل کر ایک ایسا ڈھانچہ بنانے کی ہدایت دی ہے جس سے ڈیجیٹل اریسٹ معاملوں میں متاثرین کو معاوضہ دینے کی سہولت تیار کی جا سکے۔
اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی کے ذریعہ داخل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ آئی 4 سی، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت اور ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنالوجی کی فکر کے بعد جنوری 2026 میں ایک خصوصی جانچ مہم شروع کی۔ اس جانچ میں ایک منظم عمل اختیار کیا گیا، پہلے مشتبہ اشاروں کی پہچان، پھر نیٹورک کا تجزیہ، پورے نیٹورک پر کارروائی اور آخر میں آٹومیٹیڈ سیکورٹی سسٹم تیار کرنا۔
اس مہم کے دوران واٹس ایپ نے ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ سے جڑے 9400 اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ کارروائی گزشتہ 12 ہفتوں میں کی گئی ہے۔ حکومت نے اسے سائبر جرائم کے خلاف ایک بڑی کامیابی بتایا ہے۔ حکومت اور ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل اریسٹ کے معاملوں کو روکنے کے لیے نگرانی اور سختی آگے بھی جاری رہے گی، تاکہ عام لوگوں کو سائبر ٹھگی سے بچایا جا سکے۔