’ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘، روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر
روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’بننے چلے تھے سیاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘

نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘
پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔
روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔