دہلی میں پی ایم-10 کی آلودگی 247 میں سے 167 دن رہی گزشتہ سال سے بدتر: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد بھی دہلی میں 247 میں سے 167 دن پی ایم-10 کی آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ رہی۔ وِزیرپور میں اے کیو آئی 140 ریکارڈ کیا گیا، جو ’معتدل‘ زمرے میں ہے

<div class="paragraphs"><p>کانگریس کے&nbsp;سینئر لیڈر اجے&nbsp; ماکن / تصویر ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے باوجود شہر میں پی ایم-10 کی آلودگی رواں سال کے 247 میں سے 167 دن گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

ماکن کی روزانہ جاری ہونے والی ’سانس‘ رپورٹ کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم-10 کی آلودگی فی الحال گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں زیادہ خراب نہیں ہے اور پہلے جاری رہنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے۔ تاہم سال کے مجموعی اعداد و شمار میں آلودگی کے زیادہ رہنے والے دنوں کی تعداد اب بھی نمایاں ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 میں اب تک 247 دنوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں 167 دن پی ایم-10 کی سطح گزشتہ سال سے زیادہ رہی۔ ماکن نے اس موازنے میں ہر دن کے لیے گزشتہ سال کے متعلقہ دن کے پلس یا مائنس سات دن کے ڈیٹا اور یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کو بنیاد بنایا ہے، جبکہ موسم کے اثرات کو بھی الگ کیا گیا ہے۔

تازہ رپورٹ میں وزیرپور دہلی کا مانیٹر نمایاں رہا، جہاں آج صبح اے کیو آئی 140 ریکارڈ کیا گیا۔ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے پیمانے پر یہ ’معتدل‘ زمرے میں آتا ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے پھیپھڑوں کے امراض، خصوصاً دمے کے شکار افراد کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو بھی تکلیف کا سامنا ہو سکتا ہے۔


ماکن کے مطابق وزیرپور کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 14.1 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ اعداد و شمار کو مسلسل ریکارڈ کرنے اور عوام کے سامنے رکھنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔

رپورٹ میں پی ایم-10 کے سال بہ سال موازنے کے لیے سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں، جبکہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے ’ای آر اے-5‘ ڈیٹا سے مدد لی گئی ہے۔ ماکن نے مکمل رپورٹ اور طریقۂ کار کے لیے ’ہوا کا حساب ڈاٹ ان‘ کا حوالہ دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔