دہلی کی سانسوں کا حساب بگڑا، پی ایم 10 آلودگی 82 دن سے مسلسل بدتر: اجے ماکن
اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی 82 دن سے گزشتہ سال کے مقابلے بدتر ہے۔ نارتھ کیمپس میں اے کیو آئی 311، جبکہ 32.3 لاکھ افراد خراب ہوا والے مانیٹروں کے قریب ہیں

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی دہلی کی پی ایم 10 آلودگی مسلسل 82 دن سے گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری ہے اور اب تک ایک دن کے لیے بھی نہیں ٹوٹا۔
اجے ماکن نے اپنی ایکس پوسٹ میں اپنی ’سانس’ سیریز کے تحت ’ڈے 101‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے مسلسل 82 دن بدتر رہی ہے۔
ماکن کے مطابق رواں سال اب تک دستیاب 231 دنوں کے اعداد و شمار میں 158 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ 82 دن کے مسلسل سلسلے کے دوران پی ایم 10 کی اوسط اضافی مقدار 13.5 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر رہی۔
تازہ اعداد و شمار میں نارتھ کیمپس کی صورت حال کو خاص طور پر تشویش ناک قرار دیا گیا ہے۔ ماکن کے مطابق نارتھ کیمپس میں آج صبح اے کیو آئی 311 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے پیمانے پر ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق سی پی سی بی کے اپنے معیار کے تحت اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے سانس سے متعلق بیماریوں کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ماکن کے مطابق نارتھ کیمپس کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 15 لاکھ 94 ہزار 874 افراد رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔
ان کی رپورٹ کے مطابق پوری دہلی میں تقریباً 32.3 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تعداد تقریباً تین مانیٹروں کے آس پاس رہنے والی آبادی کے حساب سے سامنے آتی ہے۔
اجے ماکن نے فضائی آلودگی کے روزانہ ریکارڈ ہونے والے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھنے اور ان کی مسلسل نگرانی پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق سال بہ سال موازنے کے لیے 13 سے 27 اگست 2025 کے اوسط کو بنیاد بنایا گیا ہے، جس میں گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں کے ±7 دن کے اعداد و شمار شامل ہیں اور یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ بنیادی ڈیٹا سی پی سی بی سے لیا گیا ہے، جبکہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے ’ای آر اے 5‘ ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
