دہلی کی ہوا میں بہتری کے آثار نہیں، 250 میں 167 دن پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال سے بدتر: اجے ماکن
اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر الگ کرنے کے بعد 2026 کے 250 میں 167 دن دہلی کی پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ نصف سال میں اے کیو آئی 154 یا اس سے بدتر رہا

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2026 میں اب تک شہر کی ہوا کے معیار میں کوئی حقیقی بہتری نظر نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد بھی 250 میں سے 167 دن دہلی کی پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ رہی، جو مجموعی طور پر 66.8 فیصد دن بنتے ہیں۔
ماکن نے اپنی ’سانس‘ سیریز کی تازہ پوسٹ میں کہا کہ دہلی کی ہوا میں اس سال بیشتر دن گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ آلودگی رہی اور اس فرق کی وجہ موسم کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پی ایم 10 کے اعداد و شمار کا موازنہ ہر دن گزشتہ سال کی اسی تاریخ کے علاوہ اس کے دونوں جانب سات، سات دن کے دائرے سے کیا گیا، جبکہ دونوں برسوں کے یکساں مانیٹرنگ اسٹیشنوں کو موازنے میں شامل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں اب تک 250 دنوں کے اعداد و شمار دستیاب ہیں، جن میں 167 دن پی ایم 10 کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ ماکن نے یہ بھی بتایا کہ پی ایم 2.5 کے معاملے میں 250 میں سے 98 دن ایسے رہے جب اس کی سطح گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں سے زیادہ تھی۔
ماکن کے مطابق پورے سال کے رجحان میں پی ایم 2.5، پی ایم 10، سلفر ڈائی آکسائیڈ (ایس او 2) اور کاربن مونو آکسائیڈ (سی او) میں کوئی حقیقی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ریکارڈ کیے جانے والے ان اعداد و شمار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہر دن کا ریکارڈ عوام کے سامنے رہنا چاہیے۔
تازہ اعداد و شمار میں دہلی کے مجموعی اے کیو آئی کے درمیانی نقطے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ یکم جنوری سے 7 ستمبر تک 2026 کے نصف دنوں میں اے کیو آئی 154 یا اس سے زیادہ ریکارڈ ہوا، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک درمیانی دن کا اے کیو آئی 144 تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ رواں سال کے درمیانی نقطے پر بھی ہوا کا معیار گزشتہ سال کے مقابلے میں خراب رہا۔
دریں اثنا، آج صبح دہلی کا سب سے خراب مانیٹر آنند وہار رہا، جہاں اے کیو آئی 128 ریکارڈ کیا گیا۔ ماکن کے مطابق اس ریڈنگ کا تعین پی ایم 10 نے کیا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے پیمانے پر 128 ’درمیانہ‘ زمرہ ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق اس سطح پر دمے جیسے پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے ساتھ دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔
ماکن نے کہا کہ ان کے تجزیے میں استعمال ہونے والا بنیادی ڈیٹا سی پی سی بی سے لیا گیا ہے، جبکہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے لیے ای آر اے 5 ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اعداد و شمار کی نگرانی اور جواب دہی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
