شیلا دکشت کے اقتدار سے جانے کے بعد دہلی کی ترقی تھم گئی، ٹرانسپورٹ نظام درہم برہم: اجے ماکن
کانگریس کے سینئر لیڈر اجے ماکن نے کہا کہ شیلا دکشت کے اقتدار سے جانے کے بعد دہلی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی سست ہو گئی اور عوامی ٹرانسپورٹ نظام کمزور پڑ گیا

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے کہا ہے کہ سال 2013 کے آخر میں سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کے اقتدار سے جانے کے بعد قومی راجدھانی دہلی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انتظامی صورتحال بگڑتی چلی گئی۔
شیلا دکشت حکومت میں وزیر رہ چکے اجے ماکن نے دہلی کے بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ خدمات کے حوالے سے پانچ سوالات کی ایک مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے پہلے مرحلے میں انہوں نے عوامی نقل و حمل کے نظام اور اس سے جڑے معاملات پر سوال اٹھائے۔
اجے ماکن نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں دہلی حکومت کی جانب سے ایندھن بحران کے تناظر میں کئی مشورے دیے گئے، جن میں میٹرو کے استعمال، مشترکہ سفر اور غیر ضروری آمد و رفت سے بچنے کی اپیل شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ مشورے اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا دہلی کا عوامی ٹرانسپورٹ نظام اس قابل ہے کہ لوگ اپنی نجی گاڑیاں گھر پر چھوڑ کر سفر کریں اور انہیں مناسب سہولت مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے بجٹ میں سرمایہ جاتی اخراجات کا حصہ نہایت اہم ہوتا ہے، کیونکہ اسی رقم سے میٹرو لائنیں، ڈپو، فلائی اوور اور سڑکوں جیسے بنیادی منصوبے تیار ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تیس برسوں میں دہلی میں چار منتخب حکومتیں رہیں اور سبھی نے ٹرانسپورٹ شعبے پر خرچ کیا، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کتنی رقم حقیقی تعمیراتی منصوبوں پر خرچ ہوئی۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ عام آدمی پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتوں نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کانگریس حکومت کے مقابلے کم خرچ کیا۔
اجے ماکن نے کہا کہ 2013 کے آخر میں شیلا دکشت کے اقتدار چھوڑنے کے بعد دہلی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار تقریباً رک گئی۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو کے چوتھے مرحلے کو ان کی حکومت نے 2011 میں منظوری دی تھی، لیکن مرکزی منظوری ملنے میں 2019 تک انتظار کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں کا بیڑا آج 14 برسوں میں سب سے چھوٹا ہو چکا ہے اور بجٹ کا وہ حصہ جو پہلے تعمیراتی کاموں پر خرچ ہوتا تھا، اب تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کانگریس رہنما کے ان بیانات نے ایک بار پھر دہلی میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کی صورتحال پر سیاسی بحث کو تیز کر دیا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
