دہلی کی سانسوں پر پھر شدید حملہ، آنند وہار میں اے کیو آئی 443: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق آنند وہار میں اے کیو آئی 443 تک پہنچ گیا، جو ’شدید‘ زمرے میں ہے۔ 27.7 لاکھ افراد خراب یا اس سے بدتر ہوا والے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر دائرے میں ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی کی فضائی آلودگی پر نظر رکھنے والی کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن اجے ماکن کی ’سانس‘ مہم کے 111ویں دن راجدھانی کے ایک بڑے مانیٹرنگ اسٹیشن پر ہوا کا معیار انتہائی تشویش ناک سطح تک پہنچ گیا۔ اجے ماکن کے مطابق آنند وہار میں آج صبح ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 443 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے پیمانے پر ’شدید‘ زمرے میں آتا ہے۔

ماکن کی جانب سے جاری کردہ معلومات میں سی پی سی بی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس سطح کی آلودگی صحت مند افراد پر بھی سانس سے متعلق اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس طرح آنند وہار میں ریکارڈ ہونے والی آلودگی نہ صرف پہلے سے بیمار یا حساس افراد بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آنند وہار کے اس مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13.6 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ تاہم ماکن نے اس حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی کی ہے کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فرق اعداد و شمار پیش کرتے وقت واضح طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔


دہلی کی مجموعی صورت حال بھی تشویش ناک ہے۔ ماکن کے مطابق شہر میں تقریباً 27.7 لاکھ افراد ایسے مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاہم تازہ رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 آلودگی اب گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں رہی۔ ماکن کے مطابق پی ایم10 کی مسلسل بدتر رہنے والی صورتحال کا سلسلہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے، اور اس تبدیلی کو بھی اسی طرح ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس طرح گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران مسلسل بگاڑ کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

’ڈی ویدرنگ‘ کے عمل میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آلودگی کی سطح میں تبدیلی صرف موسم کی وجہ سے ہے یا شہر میں آلودگی کے مستقل ذرائع بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔

ماکن کے مطابق اس سال اب تک 242 دنوں کے اعداد و شمار دستیاب ہیں، جن میں 164 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب تھی۔ اس کے باوجود موجودہ اعداد و شمار میں موسم کا اثر نکالنے کے بعد گزشتہ سال سے بدتر رہنے کا مسلسل سلسلہ اب برقرار نہیں رہا۔


ماکن نے روزانہ کی بنیاد پر فضائی آلودگی کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار مسلسل دیکھے اور ریکارڈ کیے جا رہے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔

’سانس‘ مہم کے ذریعے جاری کیے جانے والے ان اعداد و شمار میں سی پی سی بی کے مانیٹرنگ ڈیٹا اور موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے طریقۂ کار کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ ماکن کے مطابق اس کا مقصد دہلی کی ہوا کی روزانہ صورت حال کو عوام کے سامنے مسلسل رکھنا ہے، تاکہ آلودگی میں بہتری یا بگاڑ دونوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔