دہلی کی آلودگی کا 88 روزہ سلسلہ ٹوٹا، آنند وہار میں اے کیو آئی 375 ریکارڈ: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 آلودگی کا 88 روزہ سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔ تاہم 2026 کے 239 دنوں میں 164 دن آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ رہی، آنند وہار کا اے کیو آئی 375 رہا

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن کی جانب سے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق جاری ’سانس‘ سیریز میں 88 دن سے جاری پی ایم 10 آلودگی کا سلسلہ ٹوٹنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ماکن کے مطابق موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا اب گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں رہی۔ یہ سلسلہ 30 مئی سے مسلسل جاری تھا۔

اجے ماکن نے اپنی تازہ پوسٹ میں ’سانس، دن 108‘ کے تحت بتایا کہ دہلی میں آلودگی کا مسلسل 88 روزہ سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس رجحان کو روزانہ ریکارڈ کیا گیا اور عوام کے سامنے رکھا گیا، اس کے ختم ہونے کی اطلاع بھی اسی شفافیت کے ساتھ دی جا رہی ہے۔

ماکن کے مطابق رواں سال اب تک 239 دنوں کے اعداد و شمار کی پیمائش کی گئی، جن میں 164 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ اس طرح اگرچہ مسلسل 88 دن تک جاری رہنے والا سلسلہ ٹوٹ گیا ہے، لیکن مجموعی طور پر رواں سال کے پیمائش شدہ دنوں کی بڑی تعداد میں آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔

تازہ اعداد و شمار میں آنند وہار کی صورت حال بھی نمایاں کی گئی ہے۔ ماکن کے مطابق آنند وہار میں آج صبح اے کیو آئی 375 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پیمانے پر ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس سے متعلق بیماری لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔


رپورٹ کے مطابق آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13.6 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ تاہم ماکن نے اس حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی کی ہے کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی ہوا میں سانس لے رہا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق پوری دہلی میں تقریباً 16.3 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تعداد تقریباً تین مانیٹروں کے آس پاس کی آبادی کے حساب سے سامنے آتی ہے۔

اجے ماکن مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ روزانہ ریکارڈ ہونے والے فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ ان کی ’سانس‘ سیریز میں موسم کے اثرات کو الگ کرکے گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں سے پی ایم 10 کی سطح کا موازنہ کیا جاتا ہے، تاکہ بارش، ہوا اور درجہ حرارت جیسے عوامل کے باعث پیدا ہونے والے عارضی فرق کو الگ دیکھا جا سکے۔

اجے ماکن نے کہا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کی رپورٹ میں فضائی آلودگی کی مسلسل نگرانی، شفاف اعداد و شمار اور جواب دہی کو دہلی کی ہوا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔