دہلی: سوائن فلو کے معاملے نے توڑا 7 سال کا ریکارڈ! اگست میں ہی کیسز کی تعداد 3200 سے متجاوز
دہلی میں 2024 میں سوائن فلو کے 3151 معاملے سامنے آئے تھے، جبکہ رواں سال 31 اگست کو ہی یہ معاملے 3200 کے پار پہنچ گئے ہیں۔

دہلی-این سی آر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں سوائن فلو کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ موسم میں آئی تبدیلی کے باعث سوائن فلو کے معاملے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ راجدھانی دہلی میں پیر (31 اگست) کو سوائن فلو کے 164 معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رواں سال اب تک سوائن فلو کے 3218 معاملے سامنے آ چکے ہیں اور یہ گزشتہ 7 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ 2024 کے بعد سب سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ محکمہ صحت نے لوگوں سے احتیاط برتنے کے لیے کہا ہے۔
واضح رہے کہ دہلی میں 2024 میں سوائن فلو کے 3151 معاملے سامنے آئے تھے، جبکہ رواں سال 31 اگست کو ہی یہ معاملے 3200 کے پار پہنچ گئے ہیں۔ صرف مارچ میں ہی سوائن فلو کے 315 معاملے درج کیے گئے تھے، یہ گزشتہ 7 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ نیشنل سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کی رپورٹ کے مطابق 2019 میں سوائن فلو کے 3627 معاملے سامنے آئے تھے اور 31 مریضوں کی موت ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2020 میں 412، 2021 میں 92، 2022 میں 442، 2024 میں 3151 اور 2025 میں 229 معاملے سامنے آئے تھے۔
محکمہ صحت کے مطابق لوگوں کو احتیاط برتنے اور سوائن فلو کی علامت ظاہر ہونے پر ڈاکٹروں سے جانچ کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ بھیڑ والی جگہوں پر احتیاط برتیں اور صفائی کا خیال رکھیں۔ آئی سی ایم آر کے ڈی جی ڈاکٹر راجیو بہل نے حال ہی میں اس حوالے سے کہا تھا کہ انفلوئنزا کی موجودہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس حوالے سے گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ملک میں ابھی جو انفلوئنزا وائرس پھیل رہے ہیں وہ حالیہ سالوں میں دیکھے گئے موسمی پیٹرن کے مطابق ہیں۔ ہندوستان میں ایچ1این1 میں امید کے مطابق موسمی تبدیلی نظر آئے ہے، کوئی غیر معمولی جینیاتی تبدیلی نہیں پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : دہلی میں سوائن فلو کے مریضوں کی کل تعداد 2,612 ہو گئی
سوائن فلو سے بچاؤ کے لیے کیا کریں؟
فلو سے بچاؤ کے لیے کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ڈھانپ لیں۔
صابن اور پانی سے بار بار ہاتھ دھوئیں اور صحیح ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں۔
بیمار ہونے پر گھر پر رہیں اور دوسروں کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔
جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور خوب آرام کریں۔
صحت مند اور متوازن خوراک لیں۔
اگر علامات شدید ہوں، مسلسل بنی رہیں یا بگڑتی جائیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
جانچ یا علاج کے بارے میں ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
