دہلی ایس آئی آر: کیجریوال اور ان کی فیملی سمیت 32 لاکھ ووٹرس کو نوٹس، 47 لاکھ ووٹرس ’اے ایس ڈی ڈی‘ زمرہ میں شامل

بی ایل او کی جانب سے گھر گھر جا کر کیے گئے تصدیق کے عمل کے دوران ’اے ایس ڈی ڈی‘ (غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ) زمرے کے تحت 47,56,722 ووٹرس کی شناخت کی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایس آئی آر (علامتی تصویر، اے آئی)</p></div>
i

دہلی میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی ’ایس آئی آر‘ کے تحت سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور ان کے خاندان کے 4 افراد سمیت تقریباً 32 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ یہ نوٹس ان ووٹرس کے زمرے میں آتے ہیں جن کا گزشتہ ایس آئی آر سے میپ نہیں ہو سکا، یعنی ان کی معلومات گزشتہ ایس آئی آر کے دوران تیار کی گئی ووٹر لسٹ سے ملائی نہیں جا سکیں۔ علاوہ ازیں بی ایل او کی جانب سے گھر گھر جا کر کیے گئے تصدیق کے عمل کے دوران ’اے ایس ڈی ڈی‘ (غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ) زمرے کے تحت 47,56,722 ووٹرس کی شناخت کی گئی ہے۔

انتخابی حکام کے مطابق اروند کیجریوال کے علاوہ ان کی اہلیہ سنیتا کیجریوال، والد گووند رام کیجریوال، والدہ گیتا دیوی اور بیٹے پلکت کیجریوال کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ وہیں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی ان کے والدین کی عمر سے متعلق تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس بھیجا گیا ہے۔


دہلی چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کی جانب سے جاری پریس نوٹ کے مطابق اب تک 31 لاکھ 63 ہزار 930 نوٹس تیار کیے جا چکے ہیں اور انہیں متعلقہ ووٹرس تک پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ نوٹس ان ووٹرس کو جاری کیے گئے ہیں جن کا گزشتہ ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں ہو سکا ہے یا لنکنگ میں منطقی تضادات پائے گئے ہیں۔ ایس آئی آر کے تحت دہلی کی مسودہ ووٹر لسٹ 31 اگست 2026 کو شائع کی جا چکی ہے۔ مسودہ ووٹر لسٹ میں مجموعی طور پر 97 لاکھ 53 ہزار 577 ووٹرس ہیں۔ ان میں 49 لاکھ 88 ہزار 993 مرد، 47 لاکھ 64 ہزار 137 خواتین اور 447 تھرڈ جینڈر ووٹرس شامل ہیں۔

بی ایل او کی جانب سے گھر گھر جا کر کیے گئے تصدیقی عمل کے دوران 47 لاکھ 56 ہزار 722 ووٹروں کو غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ اور ڈپلیکیٹ یعنی ’اے ایس ڈی ڈی‘ زمرہ میں نشان زد کیا گیا ہے۔ ان میں 43 لاکھ 32 ہزار 775 مستقل طور پر منتقل شدہ اور غیر حاضر یا دیگر زمرے میں شامل ووٹرس ہیں، جبکہ 2 لاکھ 82 ہزار 412 فوت شدہ ووٹرس اور 1 لاکھ 41 ہزار 535 ووٹرس ایک سے زیادہ مقامات پر درج یا ڈپلیکیٹ پائے گئے ہیں۔ انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ مسودہ ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ووٹر نااہل ہے یا اس کا نام حذف کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اہل افراد مقررہ طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔


دہلی کے انتخابی حکام کے مطابق جن ووٹرس کا نام مسودہ ووٹر لسٹ میں نہیں ہے، لیکن وہ خود کو اہل ووٹر سمجھتے ہیں، وہ 30 ستمبر 2026 تک فارم-6 اور ضروری دستاویزات کے ساتھ نام شامل کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں فارم-7 کے ذریعہ موجودہ فہرست میں نام شامل کرنے پر اعتراض یا نام حذف کرنے کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔ رہائش کی جگہ تبدیل ہونے، اندراج میں اصلاح یا ای پی آئی سی تبدیل کرنے کے لیے فارم-8 کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دعوے اور اعتراضات آف لائن ای آر او، اے ای آر او، بی ایل او یا مقررہ پولنگ مراکز پر جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ آن لائن درخواست ووٹرس سروسز پورٹل اور ’ای سی آئی این ای ٹی‘ موبائل ایپ کے ذریعہ بھی دی جا سکتی ہے۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو ایس آئی آر کے دوران نوٹس جاری کیے جانے کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر چل رہی خبروں پر انتخابی افسر نے پریس نوٹ جاری کر کے صورت حال واضح کی۔ انھوں نے بتایا کہ ایس آئی آر-2026 کے دوران اے سی-14 شالیمار باغ کی ووٹر لسٹ میں ریکھا گپتا کے اندراج کو ’اینومریشن فارم‘ میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر ’لاجیکل ڈسکریپنسی) کے زمرے میں نشان زد کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار کے تحت انہیں نوٹس جاری کیا گیا اور بی ایل او نے موقع پر جا کر فزیکل ویری فکیشن کیا۔ ووٹر کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات اور حقائق کی تصدیق کے بعد ریکھا گپتا کے اندراج کو درست پایا گیا۔ انتخابی افسر کے مطابق ریکھا گپتا کا نام حتمی ووٹر فہرست میں شامل کرنے کے لیے درست قرار دے دیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔