دہلی فساد: طاہر حسین کی ضمانت عرضی پر پولیس سے جواب طلب، ہائی کورٹ میں آئندہ سماعت 16 جولائی کو
سال 2020 کے دہلی فساد سے متعلق یو اے پی اے کے تحت درج معاملے میں ملزم طاہر حسین نے 29 جنوری کو نچلی عدالت سے ضمانت خارج کئے جانے کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے دہلی فساد میں مبینہ بڑی سازش کے ملزم طاہر حسین کی ضمانت عرضی پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے بدھ کے روز ہوئی سماعت کے دوران پولیس سے طاہرحسین کی اس عرضی پر جواب داخل کرنے کو کہا جس میں انہوں نے کڑکڑڈوما کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل داخل کرنے میں ہوئی 67 دنوں کی تاخیر کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طاہر حسین کی ضمانت عرضی پر دہلی ہائی کورٹ میں آئندہ سماعت جولائی میں ہوگی۔ عرضی پر اگلی سماعت 14 کی بجائے 16 جولائی کو ہوگی۔ دہلی فساد سے متعلق یو اے پی اے کے تحت درج معاملے میں ملزم طاہر حسین نے 29 جنوری کو نچلی عدالت سے ضمانت خارج کرنے کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
اس سے پہلے دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے معاملے میں الزام طے کرنے پر لگی روک گزشتہ جمعہ کو ہٹا دی تھی اور معاملے کی سماعت کر رہی عدالت کو حتمی آرڈر پاس کرنے کی اجازت دی تھی۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے ملزم دیوانگنا کلتا کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے یہ روک ہٹائی تھی۔ عدالت میں دائر عرضی کے ذریعہ کلتا کی جانب سے پولیس کو معاملے سے متعلق کچھ ویڈیو اور واٹس ایپ چیٹ دستیاب کرانے کا حکم دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ فیصلہ سنائے جانے کے بعد کلتا کے وکیل نے جج سے یہ گزارش کی تھی۔ حالانکہ عدالت نے کلتا کی ایک الگ عرضی کو منظور کرلیا اور اسے انسداد غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت معاملے میں استعمال دستاویزات کا مطالعہ کرنے کی اجازت دے دی۔
کلتا نے 2023 میں ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے یہ دعویٰ کیا تھا کہ دہلی پولیس نے فروری 2020 میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف ہوئے دھرنے اور مظاہروں کو ریکارڈ کرنے کے لیے کچھ لوگوں کو مقرر کیا تھا اور نچلی عدالت کی جانب سے الزامات طے کرنے پر بحث شروع ہونے سے پہلے انہیں اس کی فوٹیج فراہم کی جانا چاہئے۔
طلبا کارکن کلتا کے ساتھ ساتھ نتاشا نروال، جامعہ کوآرڈنیشن کمیٹی کی رکن صفورا زرگر، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سابق کونسلر طاہر حسین اور متعدد دیگر لوگوں کے خلاف بھی شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں الگ الگ ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں۔ ان فسادات میں 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 700 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
