دہلی مظاہرہ: فرضی خبر پھیلانے والوں پر دہلی پولیس کی کارروائی، تقریباً 500 پوسٹس ہٹائے گئے، کم از کم 4 ایف آئی آر درج

کچھ پاکستانی سوشل میڈیا ہینڈل کی شناخت کی گئی ہے، جن پر ہندوستان مخالف جذبات بھڑکانے اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان سوشل میڈیا پر مبینہ افواہیں اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف پولیس نے کارروائی کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق اب تک سوشل میڈیا کی تقریباً 500 پوسٹ ہٹائی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف 4 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ دہلی پولیس کی ’انٹیلیجنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز‘ (آئی ایف ایس او) یونٹ نے مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے اور لوگوں کے درمیان بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے سوشل میڈیا ہینڈل کے خلاف یہ معاملے درج کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کچھ پاکستانی سوشل میڈیا ہینڈل کی بھی شناخت کی گئی ہے، جن پر ہندوستان مخالف جذبات بھڑکانے اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ 10 اکتوبر کو کچھ ہینڈل سے احتجاج کے دوران لوگوں کی موت ہونے کی جھوٹی خبریں نشر کی گئی تھیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سے چلائے جانے والے کچھ صارفین ہندوستانی بن کر فرضی ویڈیوز اور گمراہ کن خبریں شیئر کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان الزامات کے سلسلے میں تفصیلی معلومات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پیر کو اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاج اور سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے سلسلے میں بھی دہلی پولیس نے کئی معاملے درج کیے ہیں۔


پولیس کے مطابق امتناعی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کے سلسلے میں کناٹ پلیس، تلک مارگ، باراکھمبا اور مندر مارگ تھانوں میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ یہ معاملے ’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا‘ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔ پیر کو راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے لیڈران اور حامیوں نے باراکھمبا روڈ سے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن کے 11 لیڈران نے الیکشن کمیشن کے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق فیصلوں کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔