دہلی پولیس کا سی جے پی کے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار، 20 ہزار سے زائد اہلکار تعینات
دہلی پولیس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سی جے پی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت مسترد کر دی۔ راجدھانی میں 20 ہزار سے زائد اہلکار تعینات اور 57 میٹرو اسٹیشن بند رکھنے کی سفارش کی گئی

نئی دہلی: دہلی پولیس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ احتجاج کے پیش نظر راجدھانی میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 20 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) سے 57 میٹرو اسٹیشن بند رکھنے کی سفارش کی ہے۔
پولیس کے مطابق، احتجاج کی اجازت کے لیے سی جے پی کے شریک کنوینر سورَو داس کی جانب سے درخواست موصول ہوئی تھی۔ نئی دہلی رینج کی جوائنٹ پولیس کمشنر نوپور پرساد نے بتایا کہ درخواست پر غور کرنے کے بعد اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق، مقررہ رہنما خطوط کے تحت احتجاج کی اطلاع کم از کم 10 دن پہلے دینا ضروری ہے، جب کہ اس مرتبہ بہت کم وقت پہلے درخواست دی گئی۔
پولیس نے اجازت مسترد کرنے کی ایک اور وجہ یہ بتائی کہ ماضی میں جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت ملنے کے باوجود تنظیم نے قانونی ہدایات اور اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا تھا۔ نوپور پرساد کے مطابق، موجودہ صورت حال میں امن و امان برقرار رکھنے، عوامی تحفظ اور ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے پیش نظر احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی کے علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے، جس کے تحت عوامی نظم و ضبط اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے، توڑ پھوڑ کرنے یا سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خیال رہے کہ دہلی پولیس نے احتجاج کے پیش نظر ڈی ایم آر سی سے جمعہ کی رات 9 بجے سے ہفتہ تک 57 میٹرو اسٹیشن بند رکھنے کی سفارش کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حساس علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کے خدشے کے پیش نظر یہ قدم اٹھانے کی تجویز دی گئی ہے۔
جوائنٹ پولیس کمشنر (ٹرانسپورٹ رینج) رجنیش گپتا نے ڈی ایم آر سی کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ صورت حال کے مطابق 10 اکتوبر کو ان اسٹیشنوں سے گزرنے والی میٹرو ٹرینوں کے پھیرے بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
بند رکھنے کی سفارش کیے گئے اسٹیشنوں میں جن پتھ، پٹیل چوک، مرکزی سکریٹریٹ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، بارہ کھمبا روڈ، سپریم کورٹ، اندرا پرستھ، کشمیری گیٹ، چاندنی چوک، آئی این اے، حوض خاص، آزاد پور، جامعہ ملیہ اسلامیہ، شاہین باغ، ویلکم اور روہنی ویسٹ شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق، احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور لوگوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رکھنے کے لیے احتیاطی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر مجاز اجتماع میں شرکت نہ کریں۔ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں تبدیلی کے معاملے پر دو ساتھی الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کو نظرانداز کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ سی جے پی نے انہی الزامات کے خلاف 10 اکتوبر کو احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
