شراب پالیسی کیس: بریت کے بعد اروند کیجریوال جذباتی ہو گئے، کہا- ’پورا مقدمہ فرضی تھا‘
دہلی کی راؤز ایونیو عدالت سے بری ہونے کے بعد اروند کیجریوال جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ فرضی تھا اور انہیں سیاسی سازش کے تحت پھنسا کر بدنام کیا گیا

نئی دہلی میں دہلی کی شراب پالیسی سے متعلق مقدمے میں بریت کے بعد سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال جذباتی نظر آئے۔ راؤز ایونیو عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف پورا مقدمہ فرضی تھا اور انہیں جان بوجھ کر ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا۔
اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی سازش رچی گئی تاکہ عام آدمی پارٹی کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے مسلسل کوشش کی گئی اور ٹیلی ویژن چینلوں پر انہیں بدعنوان ثابت کرنے کی مہم چلائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پانچ سرکردہ رہنماؤں کو جیل بھیجا گیا اور ایک برسر اقتدار وزیر اعلیٰ کو ان کے گھر سے گرفتار کر کے قید کیا گیا، جو ملک کی تاریخ میں غیر معمولی واقعہ ہے۔ اروند کیجریوال کے مطابق انہیں چھ ماہ تک جیل میں رکھا گیا جبکہ سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا تقریباً دو برس تک قید میں رہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سی بی آئی کی جانب سے دائر کردہ چارج شیٹ میں کئی خامیاں موجود تھیں اور پیش کیے گئے ثبوت کمزور اور ناکافی تھے۔ عدالت نے کہا کہ صرف الزامات عائد کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے، خصوصاً جب معاملہ کسی آئینی یا عوامی عہدے پر فائز شخصیت سے متعلق ہو۔
اس سے قبل عدالت نے محکمہ آبکاری کے سابق کمشنر کلدیپ سنگھ کو بھی بری کیا تھا، جس کے بعد منیش سسودیا اور پھر اروند کیجریوال کو الزامات سے آزاد کر دیا گیا۔ عدالت کے مطابق استغاثہ اپنے الزامات کو ابتدائی طور پر بھی مضبوط بنیاد فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
اروند کیجریوال نے فیصلے کو سچائی کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو مہنگائی، بے روزگاری، آلودگی اور بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل درپیش ہیں اور حکومتوں کو اپنی توانائیاں ان چیلنجوں کے حل پر صرف کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے آئین اور جمہوری اقدار کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے۔
ادھر سی بی آئی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں اور حکم نامے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرے گی۔ یہ مقدمہ دو ہزار بائیس تئیس کی دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق تھا جس کے تحت تحقیقات کا آغاز ہوا اور بعد میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی کارروائی کی۔
یہ فیصلہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی کے لیے بڑی راحت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس مقدمے نے طویل عرصے تک سیاسی اور قانونی دباؤ برقرار رکھا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔