دہلی: نانگلوئی میں غیر قانونی ایل پی جی ریفلنگ ریکیٹ بے نقاب، 96 سلنڈر ضبط، 3 گرفتار
کرائم برانچ نے نانگلوئی میں غیر قانونی ایل پی جی ریفلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 96 سلنڈر، 3 گاڑیاں اور دیگر سامان ضبط کر لیا، 3 افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا ہے

نئی دہلی: دہلی کرائم برانچ نے نانگلوئی کے بکر والا علاقے میں غیر قانونی ایل پی جی ریفلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 96 ایل پی جی سلنڈر ضبط کر لیے۔ کارروائی کے دوران تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا، جبکہ اس غیر قانونی دھندے میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور سامان بھی برآمد کیا گیا۔
پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع ملی تھی کہ نانگلوئی علاقے میں گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کی جا رہی ہے اور انہیں دوبارہ بھر کر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد کرائم برانچ اور مقامی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بکر والا روڈ پر جے شیو نرسری کے پیچھے واقع ایک خالی پلاٹ پر چھاپہ مارا۔
چھاپے کے دوران موقع سے مجموعی طور پر 96 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ پولیس نے دیکھا کہ وہاں کھڑی تین گاڑیوں میں بھی بڑی تعداد میں سلنڈر لدے ہوئے تھے۔ اس دوران سلطان پوری کے رہنے والے ونود، نانگلوئی کے وجے اور کنجھاؤلہ کے ونسھ راج کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے جب ملزمان سے اتنی بڑی تعداد میں ایل پی جی سلنڈر رکھنے سے متعلق دستاویزات طلب کیے تو وہ کوئی درست کاغذات پیش نہیں کر سکے اور نہ ہی سلنڈروں کے ذخیرے کے بارے میں کوئی اطمینان بخش جواب دے سکے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وکاس پوری کے فوڈ اینڈ سپلائی افسر کو موقع پر بلایا گیا۔ جانچ کے بعد افسر نے تصدیق کی کہ بغیر اجازت ایل پی جی سلنڈروں کا ذخیرہ اور ان کی ریفلنگ غیر قانونی ہے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 125، 318(2) اور 3(5) کے علاوہ ضروری اشیا ایکٹ 1955 کی دفعات 3 اور 7 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے حکومت ہند کی وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے 5 مارچ 2026 کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی۔
برآمد شدہ سامان میں 96 ایل پی جی سلنڈر، دو ٹاٹا ایس ٹیمپو، ایک بجاج میکسیما، تین وزن کرنے والی مشینیں اور دو دھاتی پائپ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق انہی پائپوں کے ذریعے ایک سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں گیس منتقل کی جاتی تھی۔
جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان ایل پی جی ڈلیوری سروس سے وابستہ تھے۔ انہیں ایک گیس ایجنسی کے ذریعے گھریلو سلنڈر فراہم کیے جاتے تھے، لیکن مقررہ مقامات پر سپلائی کرنے کے بجائے وہ انہیں خالی پلاٹ میں جمع کرتے اور بعد میں غیر قانونی طور پر ریفلنگ کر کے زیادہ قیمت پر فروخت کرتے تھے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
