دہلی ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: لاک ڈاؤن میں کرایہ معافی سے متعلق بیان کو نافذ کرنے کا حکم منسوخ

دہلی ہائی کورٹ نے لاک ڈاؤن کے دوران کرایہ معافی سے متعلق اروند کیجریوال کے بیان کو نافذ کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا، عدالت نے کہا کہ عوامی اپیل قانونی طور پر پابند نہیں ہوتی

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے ایک اہم فیصلے میں سنہ 2020 کے ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران غریب کرایہ داروں سے متعلق دیے گئے بیان کو نافذ کرنے کے نچلی عدالت کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ معاملہ دہلی کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے اس بیان سے جڑا ہوا تھا، جسے پہلے عدالت نے قابلِ نفاذ قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق، 29 مارچ 2020 کو جب ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا، اس کے چند دن بعد اروند کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران مکان مالکان سے اپیل کی تھی کہ وہ غریب کرایہ داروں سے کرایہ نہ لیں یا اسے کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی کرایہ دار کرایہ ادا کرنے کی حالت میں نہیں ہے تو حکومت اس کی مدد کرنے پر غور کرے گی۔

اس بیان کے بعد سنہ 2021 میں دہلی ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے اسے ایک طرح کا یقین دہانی تصور کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف دہلی حکومت نے اپیل دائر کی، جس پر اب ڈویژن بنچ نے تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا ہے۔


ڈویژن بنچ نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ کسی پریس کانفرنس یا عوامی بیان کو عدالت کے ذریعے نافذ نہیں کرایا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے بیانات کو قانونی طور پر پابند نہیں مانا جا سکتا اور نہ ہی ان کی بنیاد پر کوئی لازمی حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔

سماعت کے دوران اروند کیجریوال کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کا بیان کسی باضابطہ وعدے یا حکومتی اعلان کے طور پر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک اخلاقی اپیل تھی جس کا مقصد مشکل وقت میں باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات میں دیے گئے اس نوعیت کے بیانات کو قانونی ذمہ داری میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ عدلیہ کا دائرہ اختیار ایسے بیانات کو نافذ کرنے تک وسیع نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے حکومتی اعلانات اور عوامی اپیلوں کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ڈویژن بنچ نے سنگل بنچ کے سابقہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اس بیان کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی قانونی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

یہ فیصلہ مستقبل میں اس نوعیت کے معاملات کے لیے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں عوامی بیانات اور قانونی ذمہ داریوں کے درمیان حد بندی کا سوال اٹھتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔