سونم وانگچک کو اسپتال سے ڈسچارج کرنے پر دہلی ہائی کورٹ کی سماعت، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر ہوگا فیصلہ
دہلی ہائی کورٹ نے سونم وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے ڈسچارج کرنے کے معاملے میں فوری راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے تین دن میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ فیصلہ طبی ماہرین کی رپورٹ کی بنیاد پر ہوگا

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے ڈسچارج کیے جانے کے معاملے میں واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ طبی بورڈ اور معالجین کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو تین دن کے اندر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور معاملے کی اگلی سماعت 24 جولائی کو مقرر کی ہے۔
عدالت کے حکم کے بعد یہ تقریباً طے ہو گیا ہے کہ سونم وانگچک آئندہ 3 روز تک صفدرجنگ اسپتال میں ہی زیر علاج رہیں گے۔ ہائی کورٹ نے اس مرحلے پر کسی بھی قسم کا عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ کسی بھی طبی صورت حال سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ طبی ٹیم ہی کرے گی اور یہ فیصلہ طے شدہ طبی ضابطوں اور معیارات کے مطابق لیا جائے گا۔ عدالت نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ سونم وانگچک کے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار تشویشناک حد تک کم پائی گئی ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ انہیں رگوں کے ذریعے دیے جانے والے طبی مائعات نہیں دیے جا سکے کیونکہ انہوں نے اس کے لیے اپنی رضامندی نہیں دی تھی۔ اس معاملے کو بھی عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا گیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہر انسانی جان قیمتی ہے۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اس مؤقف کو بھی ریکارڈ پر لیا کہ سونم وانگچک کی اہلیہ اور ان کے بھائی کو چوبیس گھنٹے اسپتال میں آنے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے ایک علیحدہ کمرہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
عدالت نے ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ فی الحال کسی عبوری حکم کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ہی معاملے میں نوٹس جاری کر دیا گیا۔
سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اتوار کی صبح تقریباً چار بجے اس معاملے میں درخواست دائر کی تھی۔ اگرچہ اتوار کو عدالتی تعطیل تھی، تاہم دہلی ہائی کورٹ نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے فوری سماعت کے لیے درخواست منظور کر لی۔
گیتانجلی جے انگمو کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔ سماعت کے دوران جسٹس مینی پشکرنا کی عدالت نے ہندوستان کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کی اس یقین دہانی کو بھی ریکارڈ پر لیا کہ سونم وانگچک کی طبی رپورٹ ان کے اہل خانہ کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔
اس معاملے کی اگلی سماعت 24 جولائی کو ہوگی، جس میں عدالت کو حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی اسٹیٹس رپورٹ اور طبی بورڈ کی رائے سے آگاہ کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
