’نہرو پلیس سے غیر قانونی وینڈرس فوری طور پر ہٹائے جائیں‘، ایم سی ڈی کو دہلی ہائی کورٹ کی سخت ہدایت

دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ’’یہ سمجھ سے باہر ہے کہ عرضی گزاروں کو نہرو پلیس میں سامان فروخت کرنے کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے۔‘‘

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کو حکم دیا ہے کہ وہ نہرو پلیس ڈسٹرکٹ کمرشل کمپلیکس میں کام کر رہے غیر قانونی وینڈرس کو ہٹانے کے لے فوری اقدامات کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ جگہ ’نو وینڈنگ‘ اور ’نو ہاکنگ‘ زون ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے عرضی داخل کرنے والے 2 عرضی گزاروں پر جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین کی بنچ نے اپنے جاری کردہ حکم میں کہا کہ نہرو پلیس علاقے میں ہاکروں اور وینڈرس کو اجازت دینے سے تحفظ اور سلامتی سے متعلق خدشات کافی بڑھ گئے ہیں اور وہاں صرف محدود تعداد میں مجاز وینڈرس کو ہی کام کرنے کی اجازت ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے 24 مارچ کو دیے گئے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا تھا کہ مجاز وینڈرس کے لیے بھی سپریم کورٹ نے انہیں دوسری جگہ بسانے کے حکم جاری کیے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ’’اس بات کا عدالتی نوٹس لیا جا سکتا ہے کہ نہرو پلیس کو پہلے ہی نو وینڈنگ اور نو ہاکنگ زون قرار دیا جا چکا ہے۔ یہ واضح ہے کہ نہرو پلیس میں ہاکروں اور وینڈرس کو اجازت دینے سے پورے کمرشل کمپلیکس میں تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے کافی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس علاقے میں محدود تعداد میں ہی وینڈرس کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، سپریم کورٹ نے انہیں بھی دوسری جگہ بسانے یا ان کے لیے کوئی خاص جگہ طے کرنے پر غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔‘‘


ہائی کورٹ کا یہ حکم 2 وینڈرس کی جانب سے داخل ایک عرضی پر دیا گیا۔ عرضی میں وینڈرس نے مطالبہ کیا تھا کہ افسران انہیں نہرو پلیس میں مانسروور بلڈنگ کے سامنے سامان فروخت کرنے سے نہ روکیں۔ حالانکہ اپنے 15 صفحات پر مشتمل حکم میں عدالت نے اس عرضی کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان دونوں وینڈرس کے پاس علاقے میں سامان فروخت کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے ان دونوں پر 10000 روپے کا جرمانہ بھی عائد کر دیا اور ایم سی ڈی کو ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس زون میں کسی بھی غیر قانونی وینڈر کو کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ’’یہ سمجھ سے باہر ہے کہ عرضی گزاروں کو نہرو پلیس میں سامان فروخت کرنے کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے۔ اس لیے دہلی میونسپل کارپوریشن کو فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ نہرو پلیس کے علاقے میں کسی بھی غیر قانونی وینڈر کو سامان فروخت کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ عرضی گزار کسی بھی طرح کی راحت پانے کے حقدار نہیں ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔