200 کروڑ روپے کی ٹھگی معاملہ: سکیش چندرشیکھر کے قریبی دیپک اور پردیپ رمنانی کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت
دہلی ہائی کورٹ نے 200 کروڑ روپے کی ٹھگی اور منی لانڈرنگ معاملہ میں سکیش چندرشیکھر کے قریبی ساتھی دیپک رمنانی اور پردیپ رمنانی کو ضمانت دے دی۔ دونوں پر رقم اور مہنگے تحائف پہنچانے کا الزام ہے

نئی دہلی: 200 کروڑ روپے کی ٹھگی، جبری وصولی اور منی لانڈرنگ کے زیر بحث معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سکیش چندرشیکھر کے قریبی ساتھی دیپک رمنانی اور پردیپ رمنانی کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے دیپک رمنانی کو منظم جرائم کی روک تھام سے متعلق قانون اور منی لانڈرنگ کے معاملہ میں باقاعدہ ضمانت فراہم کی، جبکہ پردیپ رمنانی کو بھی منظم جرائم کے معاملہ میں راحت دیتے ہوئے ضمانت منظور کر لی۔
سماعت کے دوران دونوں ملزمین کی جانب سے پیش وکلا نے عدالت کو بتایا کہ وہ طویل عرصہ سے جیل میں بند ہیں اور کافی مدت قید کاٹ چکے ہیں۔ عدالت نے ان دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔
جانچ ایجنسیوں کے مطابق دیپک رمنانی اور پردیپ رمنانی نے سکیش چندرشیکھر کی ہدایت پر مختلف افراد تک نقد رقم اور قیمتی تحائف پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانچ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ انہی کے ذریعے فلمی اداکارہ جیکلین فرنانڈیز اور بعض دیگر افراد تک مہنگے تحائف اور رقوم پہنچائی گئیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب رین بیکسی کے سابق پروموٹر شیویندر موہن سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ نے شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا الزام تھا کہ ان کے شوہر اکتوبر 2019 سے جیل میں بند تھے اور اسی دوران 2020 اور 2021 میں سوکیش چندرشیکھر نے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے کروڑوں روپے کی ٹھگی اور جبری وصولی کی۔
شکایت کے مطابق سکیش نے خود کو وزیر اعظم دفتر، وزارت داخلہ اور وزارت قانون سے وابستہ افسر ظاہر کیا اور یہ تاثر دیا کہ حکومت ان کے معاملہ میں مدد کر رہی ہے۔ اس کے بدلے بڑی رقم طلب کی گئی۔ ادیتی سنگھ نے الزام لگایا کہ مختلف فون کالز کے ذریعے انہیں یقین دلایا گیا کہ اعلیٰ سرکاری حکام ان کے شوہر کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک موقع پر کال کرنے والوں نے وزارت قانون کے ایک اعلیٰ افسر سے بات کرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ دوسری مرتبہ یہ کہا گیا کہ حکومت کورونا وبا کے دوران تعاون چاہتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ان کے شوہر کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔ بعد میں کالر کی شناخت میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے نام ظاہر ہونے لگے، جس سے شکایت کنندہ کا اعتماد مزید بڑھ گیا۔
اسی معاملہ کی بنیاد پر دہلی پولیس نے سوکیش چندرشیکھر اور اس کے مبینہ ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد ازاں منظم جرائم کے قانون کے تحت کارروائی کی گئی، جبکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کرکے مالی لین دین کی الگ جانچ شروع کی۔ یہ معاملہ ملک کے سب سے زیادہ زیر بحث مالی جرائم کے مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔
