منی لانڈرنگ معاملہ: دہلی کی عدالت نے ستیش سیٹھ کو 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا
عدالت نے ریلائنس گروپ کے سابق عہدیدار ستیش سیٹھ کو منی لانڈرنگ معاملے میں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ معاملہ ریلائنس ٹیلی کام اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے متعلق مبینہ قرض دھوکہ دہی سے جڑا ہے

نئی دہلی: دہلی کی دوارکا عدالت نے ریلائنس گروپ کے سابق اعلیٰ عہدیدار ستیش سیٹھ کو منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تحویل کی مدت 19 جون کو ختم ہونے والی تھی۔
ستیش سیٹھ، صنعت کار انل امبانی کے قریبی ساتھی اور ریلائنس گروپ کے سابق گروپ منیجنگ ڈائریکٹر اور ریلائنس انفراسٹرکچر کے سابق نائب چیئرمین رہ چکے ہیں۔ انہیں گرفتاری کے بعد ٹرانزٹ ریمانڈ پر ممبئی سے دہلی لایا گیا تھا۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ستیش سیٹھ اور ریلائنس ٹیلی کام کے سابق ڈائریکٹر گوتم دوشی کو ممبئی سے گرفتار کیا تھا۔ یہ کارروائی ایک مبینہ بینک قرض دھوکہ دہی کے معاملے کی جانچ کے سلسلے میں کی گئی تھی۔
یہ معاملہ مرکزی تفتیشی بیورو کی اس پہلی اطلاعاتی رپورٹ سے جڑا ہے، جس میں ریلائنس ٹیلی کام لمیٹڈ اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے درمیان 114 کروڑ 98 لاکھ روپے کی مبینہ قرض دھوکہ دہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ مرکزی تفتیشی بیورو کے مطابق ستیش سیٹھ اور گوتم دوشی کے خلاف مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ نامعلوم سرکاری اہلکاروں اور دیگر افراد کے خلاف انسداد بدعنوانی قانون کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں اور افراد کی کارروائیوں کے باعث بینک کو 114 کروڑ 98 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ یہ بینک ان 11 بینکوں کے کنسورشیم کا حصہ تھا، جنہوں نے ریلائنس ٹیلی کام لمیٹڈ کو مجموعی طور پر 735 کروڑ روپے کے مدت قرض کی منظوری دی تھی۔
جانچ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ قرض کی رقم کے مبینہ طور پر غلط استعمال اور دوسری جگہ منتقل کیے جانے میں ستیش سیٹھ اور گوتم دوشی کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔ مارچ میں مقدمہ درج ہونے کے بعد مرکزی تفتیشی بیورو نے ممبئی میں متعدد مقامات پر تلاشی مہم چلائی تھی، جس کے دوران دونوں سابق عہدیداروں کی رہائش گاہوں اور ریلائنس ٹیلی کام لمیٹڈ کے رجسٹرڈ دفتر سے قرض اور مالی لین دین سے متعلق اہم دستاویزات برآمد کیے گئے تھے۔
ادھر ریلائنس گروپ کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ 70 سالہ ستیش سیٹھ اور 73 سالہ گوتم دوشی اب گروپ سے وابستہ نہیں ہیں۔ اس معاملے کے درمیان ریلائنس گروپ سے متعلق دیگر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ بھی مختلف ایجنسیاں کر رہی ہیں۔ اسی ماہ کے آغاز میں مرکزی تفتیشی بیورو نے ریلائنس کمیونی کیشنز کے سابق گروپ منیجنگ ڈائریکٹر امیتابھ جھنجھن والا کو تقریباً 2,929 کروڑ روپے کے مبینہ قرض دھوکہ دہی کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
