دہلی: ایس ای ایم کورٹ کا سی جے پی کے رہنماؤں سورو داس اور آشوتوش رانکا کی رہائی کا حکم

دہلی کی ایس ای ایم عدالت نے سی جے پی ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ دہلی پولیس نے حراست میں تین دن کی توسیع مانگی تھی۔ ہائی کورٹ میں احتجاج اور امن و امان پر بھی بحث ہوئی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی کی خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) عدالت نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان سورو داس اور آشوتوش رانکا کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو دو دن کی عدالتی حراست کے بعد بدھ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے ان کی عدالتی حراست میں مزید تین دن کی توسیع کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے اسے منظور کرنے کے بجائے دونوں کو رہا کرنے کا حکم سنایا۔

اس سے قبل عدالت نے دونوں رہنماؤں سے متعلق معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ ایس ای ایم عدالت نے انہیں 21 اکتوبر تک عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف سورو داس اور آشوتوش رانکا نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

تاہم، بدھ کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ اس سماعت میں ان کی عمر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سورو داس کی عمر 27 سال اور آشوتوش رانکا کی عمر 31 سال ہے۔ اس پر ہائی کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’تو یہ جین زی نہیں ہیں۔‘‘ جج نے اس دوران یہ بھی پوچھا کہ ملینیلز اور جین زی کی عمر کا دائرہ کیا ہے۔

سورو داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، لیکن جب امن و امان میں خلل پڑنے کا خدشہ ہو تو متعلقہ افراد کی شناخت، ان کے کام اور ان کی نیت جیسے سوالات بھی اہم ہو جاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب مجسٹریٹ امن و امان میں خلل پڑنے کے خدشے پر غور کرتا ہے تو یہ تمام پہلو اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔


ہائی کورٹ نے احتجاج کی نوعیت میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں یہ طلبہ کا مظاہرہ تھا، جس میں بچے اور طلبہ شامل تھے، لیکن اب احتجاج کا معاملہ بدل گیا ہے۔ عدالت کے مطابق، مظاہرے میں شامل افراد وہی ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے مطالبات اور احتجاج کے مقاصد تبدیل ہو چکے ہیں۔

عدالت نے اس تناظر میں سوال اٹھایا کہ مظاہرے میں شامل افراد کون ہیں، ان کی شناخت کیا ہے، ان کا تعلق کس تنظیم سے ہے اور اس تنظیم کا اصل مقصد کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ جب امن و امان میں خلل پڑنے کا خدشہ ہو تو ان سوالات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ دریں اثنا، ایس ای ایم عدالت کے رہائی کے حکم سے دونوں سی جے پی رہنماؤں کو راحت ملی ہے۔ دہلی پولیس نے ان کی عدالتی حراست میں تین دن کی توسیع مانگی تھی، لیکن عدالت نے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ سنایا۔