دہلی کی ہوا پھر خطرناک حدوں سے اوپر، اجے ماکن کا حکومت پر سخت حملہ

اجے ماکن نے دہلی کی فضائی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا اوسط پی ایم 2.5 سطح عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے قومی خزانچی اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ دارالحکومت کی ہوا مسلسل خطرناک سطح پر برقرار ہے۔ انہوں نے ایکس پر جاری کردہ ویڈیو میں بتایا کہ 20 اپریل 2026 کو دہلی کا اوسط پی ایم 2.5 درجہ 73 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ محفوظ حد 15 مائیکرو گرام سے کئی گنا زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے تمام 31 مانیٹرنگ اسٹیشن عالمی معیار سے اوپر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 29 اسٹیشن ہندوستان کے قومی معیارات سے بھی تجاوز کر گئے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ آلودگی جہانگیر پوری میں ریکارڈ کی گئی جہاں سطح 110 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جو عالمی حد سے سات گنا زیادہ ہے۔

اجے ماکن نے اپنے بیان میں گزشتہ دن کے مقابلے میں معمولی بہتری کا ذکر کیا، مگر اسے حکومتی پالیسی کا نتیجہ ماننے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوا کے تیز جھونکوں کی وجہ سے آلودگی میں عارضی کمی آئی ہے، کیونکہ اپریل کا موسم ایسا ہوتا ہے جب مغربی ہوائیں آلودہ ذرات کو منتشر کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہوا چلتی ہے تو دہلی سانس لے پاتی ہے لیکن جیسے ہی یہ رکتی ہے، آلودگی دوبارہ خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہے۔


انہوں نے سال بہ سال موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں دو فیصد زیادہ خراب ہے۔ کچھ علاقوں میں صورتحال مزید سنگین دیکھی گئی، جہاں آلودگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 سے 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اجے ماکن نے ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ایم 2.5 کی بلند سطح شمالی ہندوستان میں اوسط عمر کو پانچ سال تک کم کر سکتی ہے، جو ایک سنگین صحت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ عوامی صحت کا بحران بھی ہے۔

انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی صاف ہوا پروگرام کے تحت 40 فیصد کمی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر موجودہ اعداد و شمار اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام عوامی ٹرانسپورٹ کو دو سال میں برقی بنایا جائے، پرانی سی این جی بسوں کو سڑکوں سے ہٹایا جائے اور آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔

کانگریس نے اس معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دہلی کی فضائی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کے اثرات براہ راست عوام کی صحت پر پڑیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔