ٹی-72 اور ٹی-90 ٹینکوں کے لیے 586 کروڑ روپے کے اے پی یو کی خریداری کا معاہدہ
وزارت دفاع نے ٹی-72 اور ٹی-90 ٹینکوں کے لیے 586 کروڑ روپے میں معاون پاور یونٹ خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ مقامی کمپنی ایکیوریٹ انڈسٹریل کنٹرولز یہ اے پی یو فراہم کرے گی

نئی دہلی: وزارت دفاع نے ہندوستانی فوج کے ٹی-72 اور ٹی-90 مین بیٹل ٹینکوں کے لیے معاون پاور یونٹ (اے پی یو) کی خریداری کے سلسلے میں 586 کروڑ روپے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ مقامی کمپنی ایکیوریٹ انڈسٹریل کنٹرولز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ کیا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق، نئی دہلی میں پیر کو ہونے والی تقریب میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ بھی موجود تھے۔
اے پی یو ٹینک کے لیے بجلی کا ایک متبادل ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے ٹینک کے فائر کنٹرول سسٹم، فائرنگ سرکٹ، گن اسٹیبلائزیشن سسٹم اور دیگر معاون آلات کو بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اس کا اہم فائدہ یہ ہے کہ نگرانی یا تربیتی سرگرمیوں کے دوران ٹینک کا مرکزی انجن بند رکھنے کے باوجود ضروری نظام کام کرتے رہ سکتے ہیں۔
وزارت دفاع نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ٹی-72 اور ٹی-90 ٹینک اس کی میکینائزڈ فورس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ مقامی طور پر تیار کیے جانے والے اے پی یو ان ٹینکوں کی آپریشنل صلاحیت، قابل اعتماد کارکردگی اور طویل مدتی آپریشنل پائیداری کو بہتر بنانے میں مدد کریں گے۔
اے پی یو کے استعمال سے ٹینک کے مرکزی انجن کو ہر وقت چلانے کی ضرورت کم ہوگی۔ اس سے ایک طرف ایندھن کی بچت میں مدد ملے گی، تو دوسری طرف مرکزی انجن پر پڑنے والا دباؤ بھی کم ہوگا، جس سے اس کی آپریشنل عمر بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزارت کے مطابق، ہندوستانی کمپنی کو دیا گیا یہ آرڈر ٹینکوں کے لیے اے پی یو کی تیاری میں ملک کو خود کفیل بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ ’آتم نربھر بھارت‘ کے تحت دفاعی سازوسامان کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کی کوششوں سے بھی منسلک ہے۔
وزارت دفاع نے کہا کہ اس منصوبے میں مستقبل میں ہندوستانی اور غیر ملکی بازاروں کے لیے بڑے کاروباری امکانات موجود ہیں۔ ہندوستانی مسلح افواج کے پاس ٹی-72، ٹی-90، ارجن ٹینک اور بی ایم پی گاڑیوں کا بڑا بیڑا موجود ہے، جس کی وجہ سے اے پی یو کی مسلسل ضرورت برقرار رہنے کی توقع ہے۔ نئے ٹینکوں کی شمولیت کے ساتھ آنے والے برسوں میں اس ضرورت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزارت کے مطابق، ہندوستان میں تیار کیے جانے والے اے پی یو کی برآمد کے امکانات بھی موجود ہیں۔ روسی ساختہ ٹی-72 اور ٹی-90 ٹینک استعمال کرنے والے متعدد ممالک ممکنہ خریدار ہو سکتے ہیں۔ سابق سوویت ممالک کے علاوہ ایران، عراق اور مصر سمیت کئی ملکوں کی مسلح افواج میں بھی یہ ٹینک استعمال ہوتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
