ڈابر اب اپنے فوڈ پروڈکٹس پر نہیں لکھ سکتا ’100 فیصد خالص‘، ایف ایس ایس اے آئی نے جاری کیا نوٹس
ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر کو متعدد غذائی اور مشروباتی مصنوعات سے 100 فیصد خالص، قدرتی یا آرگینک ہونے کے دعووں کو فوری طور پر ہٹانے اور ایسے دعووں کے ساتھ فروخت کرنے پر روک لگا دی ہے۔

اگر آپ رسوئی یا صحت کے لیے ڈابر کا شہد، دیسی گھی، ناریل پانی یا آرگینک ایپل سائڈر سرکہ یہ سوچ کر خریدتے تھے کہ اس پر درج ’100 فیصد پیور‘ یا ’100 فیصد نیچرل‘ کے دعوے مکمل طور پر درست ہیں، تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے اس معاملے میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے، جس کے بارے میں جاننا آپ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ فوڈ ریگولیٹر ایف ایس ایس اے آئی نے ایف ایم سی جی کی مشہور کمپنی ڈابر انڈیا لمیٹڈ کے خلاف ایک بڑا اور سخت حکم جاری کیا ہے۔
ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر کو اپنے متعدد غذائی اور مشروباتی مصنوعات سے 100 فیصد خالص، قدرتی یا آرگینک ہونے کے دعووں کو فوری طور پر ہٹانے اور ایسے دعووں کے ساتھ فروخت کرنے پر روک لگا دی ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق 100 فیصد جیسے دعوے مبہم، غیر تصدیق شدہ اور عام صارفین کو گمراہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ آخر ایف ایس ایس اے آئی کے نشانے پر ڈابر کی کون کون سی مصنوعات آئی ہیں؟ کمپنی نے غذائی تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کس طرح کی؟ اور اس فیصلے کا عام صارفین کی تھالی اور جیب پر کیا اثر ہوگا؟ آئیے اس پورے معاملے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
فوڈ ریگولیٹر ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر انڈیا کو شہد، گائے کا گھی اور کھانے والے تیل اور دیگر کئی مصنوعات پر ’100 فیصد‘ خالص دعوے کے ساتھ فروخت کرنے سے روک دیا ہے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ایسی لیبلنگ قانون کے خلاف ہے۔ پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایف ایس ایس اے آئی نے بتایا کہ اس نے ڈابر انڈیا لمیٹڈ کو گمراہ کرنے والے ’100 فیصد خالص‘ دعووں والے فوڈ پروڈکٹس کی فروخت پر روک لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان مصنوعات میں شہد، ایپل سائڈر ونیگر، ورجن کوکونٹ آئل، تِل کا تیل، گائے کا گھی، ناریل پانی، ناریل کا دودھ اور ایسی ہی دوسری چیزیں شامل ہیں۔
قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے ایف ایس ایس اے آئی نے کہا کہ کمپنی کی ویب سائٹ پر فروخت کیے جا رہے فوڈ پروڈکٹس پر ’100 فیصد نیچرل‘، ’100 فیصد پیور‘، ’100 فیصد پیورٹی گارنٹیڈ‘، ’100 فیصد آرگینک‘ اور ’100 فیصد ٹینڈر کوکونٹ واٹر‘ جیسے گمراہ کن ’100 فیصد‘ دعوے پائے گئے ہیں۔ ریگولیٹر نے کہا کہ ’100 فیصد‘ دعووں کا استعمال ایف ایس ایس (ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز، 2018 کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ دعوے مبہم اور ایسے ہیں جن کی تصدیق نہیں کی جا سکتی اور جن سے صارفین کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
ڈابر انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں ایف ایس ایس اے آئی کا نوٹس ملا ہے اور ہم اپنی ویب سائٹ پر نوٹس میں بتائی گئی معلومات کی جانچ کر رہے ہیں۔ ڈابر ہمالین آرگینک ایپل سائیڈر ونیگر اور ڈابر آرگینک شہد پر جائز ایف ایس ایس اے آئی آرگینک سرٹیفیکیشن کے بغیر ’جیوک بھارت‘ کا لوگو لگا ہوا پایا گیا۔ اس کے علاوہ ’ڈابر ہوم میڈ کوکونٹ مِلک پروڈکٹ‘ کو ’100 فیصد پیورٹی‘ کے دعوے کے ساتھ فروخت جا رہا تھا۔ ایف ایس ایس (ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز، 2018 کے تحت کمپاؤنڈ فوڈ (کئی چیزوں سے مل کر بنے غذائی اشیاء) کے لیے ایسا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے کہا کہ اس نے پہلے بھی ڈابر کو نوٹس جاری کر کے گمراہ کن ’100 فیصد‘ دعووں کو بند کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حالانکہ ڈابر نے اصلاح کے لیے کوئی تسلی بخش اقدامات نہیں اٹھائے۔
ریگولیٹر نے کہا کہ ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر انڈیا لمیٹڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ نوٹس میں بتائے گئے فوڈ پروڈکٹس اور گمراہ کن ’100فیصد‘ دعووں والے دیگر تمام فوڈ پروڈکٹس کی فروخت پر فوری روک لگائے اور 15 دنوں کے اندر ’ایکشن ٹیکن رپورٹ‘ (اے ٹی آر) جمع کرائے۔ گزشتہ چند مہینوں میں ایف ایس ایس اے آئی سوشل میڈیا کا استعمال کر کے عام لوگوں کو مختلف فوڈ بزنس آپریٹرز اور اپنے آن لائن مارکیٹ پلیس پر ان پروڈکٹس کو فروخت کرنے والی ای کامرس کمپنیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں معلومات فراہم کر رہا ہے۔ کئی شراب اور انرجی ڈرنک بنانے والی کمپنیاں اس کی نظر میں آئی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
