راجیہ سبھا انتخابات: کراس ووٹنگ پر اشوک گہلوت سخت، باغی ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخی کا مطالبہ

اشوک گہلوت نے کہا کہ ’’ہمارے لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے جمہوریت بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ایسے وقت یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ارکان اسمبلی نے اپنا ووٹ دکھانے کے باوجود کراس ووٹنگ کی ہمت کی‘‘

اشوک گہلوت، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: حال ہی میں ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات میں ہریانہ، اوڈیشہ اور بہار میں کراس ووٹنگ کانگریس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ اس سے قبل بھی ہریانہ میں پارٹی کے اندر سے کراس ووٹنگ کے واقعات سامنے آئے تھے، مگر اس بار یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی پس منظر میں پارٹی قیادت کراس ووٹنگ کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اس معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے پچھلی کانگریس حکومت کے دوران ریاست میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراس ووٹنگ کرنے والے ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کر دی جانی چاہیے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں ہریانہ، اوڈیشہ اور بہار میں کانگریس کے ارکان اسمبلی کی کراس ووٹنگ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے جمہوریت کو بچانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ایسے وقت میں یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ارکان اسمبلی اپنا ووٹ دکھانے کے باوجود کراس ووٹنگ کر رہے ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال نے انہیں راجستھان میں 2018 سے 2023 کے درمیان ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کی یاد دلا دی، جہاں پارٹی کے ساتھ مضبوط وابستگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق کانگریس کے پاس 102 ارکان اسمبلی ہونے کے باوجود 126 ارکان اسمبلی نے پارٹی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیا۔ ان اضافی 24 ووٹوں کو مبصرین بھی براہ راست نہیں دیکھ سکتے تھے، مگر یہ حمایت بغیر کسی لالچ یا وعدے کے، صرف پارٹی قیادت پر اعتماد کے باعث حاصل ہوئی۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹنگ کے قوانین میں تبدیلی کی جائے اور کانگریس کو اس کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی پارٹی کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو اس کی رکنیت منسوخ کر دی جانی چاہیے، کیونکہ محض ووٹ دکھانے کا موجودہ نظام ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔